عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کا فیصلہ محفوظ

عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کا فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے جو آج ہی سنایا جائے گا۔ 

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کے ممبر نثار درانی کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کی جس دوران پی ٹی آئی رہنماؤں کے وکیل فیصل چوہدری پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میری بات کا برا مت مانئے گا، الیکشن کمیشن کے نوٹس میں تضاد ہیں۔

وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے الیکشن ایکٹ سیکشن 10 کے تحت اختیارات ہائیکورٹ میں چیلنج ہیں، کیا الیکشن ایکٹ سیکشن 10 کے تحت الیکشن کمیشن نوٹس جاری کر سکتا ہے؟ الیکشن کمیشن کے ازخود نوٹس ملے، سیکرٹری الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری کیا، وہ الیکشن کمیشن نہیں ہیں، یہ آرڈر الیکشن کمیشن نے جاری کرنا ہے۔

ممبر الیکشن کمیشن نے ریمارکس دئیے کہ الیکشن کمیشن اپنے سیکرٹریٹ کے ذریعے کام کرتا ہے جس پر فیصل چوہدری نے فواد چوہدری کو توہین الیکشن کمیشن کا نوٹس ملنے پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نوٹس میں نہیں لکھا کہ کس سیکشن کے تحت نوٹس بھیجا گیا، نوٹس الیکشن کمیشن کا جاری کردہ نہیں ہے، سیکرٹری الیکشن کمیشن کی طرح کام نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ادارے غلطی کریں تو ملک کو نقصان ہوتا ہے، عمران خان کا جواب بعد میں جمع کرا دوں گا، میں الیکشن کمیشن کا پابند ہوں، سیکرٹری آپ کے پابند ہیں، نوٹس میں ابہام ہے، نوٹس کی زبان عدالتی توہین کی ہے، اس پر ممبر الیکشن کمیشن نے ریمارکس دئیے کہ آپ نے جواب فائل نہیں کیا اور دلائل شروع کر دئیے ہیں۔ 

وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ اسد عمر کا جواب بیرسٹر گوہر کی جانب سے جمع کرا رہا ہوں، انسداد دہشت گردی کی عدالت میں کیس لگا ہوا ہے۔ فیصل چوہدری نے اسد عمر اور فواد چوہدری کا جواب جمع کرا دیا جس کے بعد توہین عدالت نوٹس کے رولز کے مطابق ہونے پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے توہین عدالت نوٹس کی قانونی حیثیت پر بھی فیصلہ محفوظ کر لیا جبکہ ممبر الیکشن کمیشن نے ریمارکس دئیے ہوئے کہا کہ فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا۔ 

مصنف کے بارے میں