پاکستان کی جانب سے سرحد بند کرنے سے تجارتی خسارہ ہوا، افغانستان

پاکستان کی جانب سے سرحد بند کرنے سے تجارتی خسارہ ہوا، افغانستان

کابل/جینوا:افغانستان نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغان سرحد بند کرنے کی وجہ سے افغانستان کو90ملین ڈالرکا تجارتی خسارہ ہوا ہے۔برآمدات کے علاوہ پاکستان اوردیگرملکوں سے افغانستان میں درآمدات بھی بند ہوگئی ہیں۔اقوام متحدہ کے جنیوا آفس میں افغانستان کی مستقل مندوبہ ثریا دلیل نے کہا ہے کہ پاکستان کے اقدامات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت مکمل طورپربندہونے کے مترادف ہے۔


انہوں نے الزام لگایا کہ افغان برآمدکنندگان کوپاکستان میں کسی بھی سامان کی ترسیل سے روکا گیا جبکہ ٹرانزٹ ٹریڈ بھی متاثرہوئی۔پاکستان اور دیگر ممالک سے افغانستان کو درآمدات بھی بند کردی گئی ہیں۔افغان سفیرنے کہا کہ برآمدات کوپہنچنے والے نقصان کا تخمینہ مجموعی طورپرچھ ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی رپورٹ کے مطابق افغان تاجروں کومجموعی طور پر 80 سے90 ملین ڈالرکا نقصان برداشت کرنا پڑا۔پاکستان نے افغانستان سے دہشت گردحملوں کے بعد رواں برس17 فروری کو ڈیورنڈ لائن کے تمام سرحدی چیک پوائنٹس بند کردیے تھے اور21مارچ کوسرحد دوبارہ کھولی گئی۔