ایک تو چوری اس پر سینہ زوری

ایک تو چوری اس پر سینہ زوری

ہندو تاریخ میں ایک بادشاہ گزرا ہے جس کا نام "بھارتا" تھا اس بادشاہ کہ نام پراس خطہ زمین کا نام اس وقت بولی جانے والی زبان "سنسکرت" میں بھارت پڑا یعنی بھارت بہت قدیم اور کسی حد تک مذہبی انتہا پسندی کی آمیزش سے بھرپور لگتا ہے۔ اس ہی وجہ سے ہندو مذہب ماننے والوں کیلئے اس نام کی بڑی اہمیت بھی ہے۔ فارس کے لوگوں نے اس بھارت کو ہندوستان کے نام سے پکارا جس کی وجہ یہ پتہ چلتی ہے کہ یہ زمینی حصہ کوہِ ہمالیہ اور سندھو دریا (دریائے سندھ) کے درمیان میں واقع ہے۔ سترہویں صدی میں یونانیوں اور یورپ والوں نے اس کو انڈیا کا نام دیا اس کا سبب بھی دریائے سندھ ہی ہے انگریزی زبان میں اسے "انڈس" کہتے ہیں، انڈس سے انڈیا بن گیا۔


بھارت، ہندوستان اور انڈیا بھی کہلایا، بھارت درحقیقت ایک مذہبی عنصر کا نام ہے جو یقیناً بھارت میں بسنے والوں میں اور خصوصی طور پر ہندو مذہب ماننے والوں میں نسل در نسل سفر کرتا چلا جا رہا ہے۔

اس مذہبی جنون نے تن بدلا مگر من میں تبدیلی نہیں لاسکا اور جب جب موقع ملا اپنے ساتھ بسنے والے،  رہنے والے مسلمانوں کا خون بہانے کی کوئی نا کوئی وجہ ڈھونڈتے رہے۔ اس کام میں دوسروں کو مدد بھی فراہم کرتے رہے اور آج اکیسویں صدی میں بھی مسلمانوں کے قتلِ عام کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر کئے جا رہے ہیں۔ کہنے کو تو انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جہموری سیکولر ریاست ہے۔ انڈیا ایک ایسی سیکولر ریاست ہے جہاں ایک گائے کی جان انسانی جان سے قیمتی سمجھی جاتی ہے اور ایک گائے کہ ذبح ہونے پر لاتعداد مسلمانوں کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ انڈیا ایک ایسا سیکولر ملک ہے جو پچھلی سات دہائیوں سے نہتے کشمیریوں پر ظلم اور بربریت کہ پہاڑ توڑ رہا ہے۔

آفرین ہے ان مسلمانوں پر جنہوں نے نا مسجدوں میں نمازیں چھوڑیں اور نا ہی گائے کا ذبح بند کیا، آفرین ہے ان مقبوضہ کشمیر کہ نو جوانوں کو جنہوں نے نسل در نسل بھارتی فوجیوں کی گولیاں اپنے سینوں پر کھائیں اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے باطل کہ سامنے سر نا جھکاتے ہوئے شہادت کہ متربے پر فائز ہوئے مگر تحریکِ آزادی کی شدت میں کمی نہیں آنے دی۔ بات یہاں رکتی نہیں ابھی گجرات میں ایک تازہ واقع رونما ہوا جب آٹھ مسلمانوں کو گائے کی نقل و حمل کو وجہ بنا کر قتل کردیا۔ انڈیا سفاکیت کی حدوں کو چھورہا ہے مگر کوئی بین الاقوامی انسانی حقوق کا ادارہ یا تنظیم اس جانب دھیان نہیں دے رہی۔ بے ساختہ اکبر الہ آبادی کا ایک مشہور شعر یاد آرہا ہے کہ

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

مسلمانوں نے ہندوستان پر لگ بھگ ہزار سال حکومت کی اور ایسٹ انڈیا کی بدولت ہندؤں نےاس طویل اور نسل در نسل غلامی سے نجات حاصل کی، اب نجات کا خوب فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جا رہا۔

بھارت کے ناپاک عزائم گاہے بگاہے پاکستانیوں کو جھیلنے پڑتے ہیں، ہماری مستعد اور چابکدست فوج بروقت منہ توڑ جوابی کاروائی کر کے کسی دیرپا اقدام کوہمیشہ رد کردیتی ہے ، اب تک کتنے ہی معصوم بچے، خواتین اور بوڑھے جوان معذور ہوئے ہیں اور کتنے ہی جامِ شھادت نوش فرما چکے ہیں مگر اپنی جگہ چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ 2001 سے لیکر آج تک ہم سنبھل نہیں سکے، پاکستان کو مسلسل داخلی و خارجی محاظوں پر دہشت گردی کا سامنا ہے۔

ان دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے جہاں مختلف فورسز کام کر رہی ہیں تو دوسری طرف ہماری ایجنسیاں بھی بھرپور طریقے سے اپنے کام میں مصروفِ عمل ہیں۔ دہشتگردی کا سہرا مختلف مذہبی تنظیموں کے سر بندھتا رہا ہے اور وہ خود بھی یہ ذمہ داریاں قبول کرتے رہے ہیں۔ انڈیا اپنے ناپاک عزائم دیگر پڑوسی ممالک سے مل کر پورے کر رہا تھا جسکی وجہ سے ملک میں دیگر بغاوتوں کی نوبت پہنچنے کو تھی کہ کلبھوشن نامی "را" کا کارندہ بلکہ ایک اعلی ذمہ دار پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ چڑھ گیا۔ پھر کیا تھا اس نے اگلے پچھلے سارے راز فاش کردیئے اور اپنی اصلیت بھی منظرِ عام پر لے آیا۔ فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور اس انڈین جاسوس کو جو بھارتی عزائم رکھتا تھا تختہ دار پر لٹکانے کا حکم صادر کیا ہے۔ پوری قوم اس فیصلے کی تائید کرتی ہے اور ایسے ہر ہر فرد کیلئے ایسی ہی سزا کی امید رکھتی ہے۔

اب انڈین حکومت کی ہٹ دھرمی تو دیکھئے وہ اپنے اس دہشت گرد کو بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہیں اور کوئی پتہ نہیں کہ وہ اپنے اس کارندے کو بچانے کیلئے کہاں تک جائنینگے۔

یقیناً امریکہ بہادر کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا اور امریکہ یا کسی بھی دوسرے ملک کو اس معاملے میں نا پڑنا چاہئے اور نا ہی کچھ بولنا چاہئے۔ بلکہ یہ بات باور کرانی چاہئے کہ "ایک تو چوری اور اس پر سینہ زوری"۔

اب کسی این جی او کو آگے آنے کی ضرورت نہیں اور نا ہی کسی انسانی حقوق کے ادارے کو آگے آنا چاہئے اور اگر کوئی حکومتِ وقت سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کرے تو حکومت کو چاہئے کہ وہ کشمیر، شام اور فلسطین کا معاملہ سامنے رکھدے کہ پہلے ان ممالک میں چلو یہاں کہ انسانوں کو انسانیت کے حقوق دلوادو پھر ہم کلبھوشن تو کیا اور جتنے انسان پکڑے ہیں سب کو چھڑوادینگے۔ مگر یہ چوری اور سینہ زوری نہیں چلنے والی۔

شیخ خالد زاہد< Blogger

خالد ذاہد شعر کہنے کا شغف رکھتے ہیں،آرٹیکل اور بلاگ لکھتےہیں، انکا ماننا ہے کہ ان کا قلم ملک میں قیامِ امن اورہم آہنگی کے فروغ میں کردار ادا کرسکتا ہے