مذہبی جماعت کا دھرنا،حکومت کا قانون توڑنے والوں سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ

مذہبی جماعت کا دھرنا،حکومت کا قانون توڑنے والوں سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ
کیپشن:   مذہبی جماعت کا دھرنا،حکومت کا قانون توڑنے والوں سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ سورس:   file

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں مذہبی جماعت کے احتجاج کے باعث عوامی مشکلات کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا ہے قانون توڑنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ اعلیٰ حکام نے وزیر داخلہ کو مذہبی جماعت کی جانب سے مختلف شہروں میں دیئے گئے دھرنوں پر بریفنگ دی۔

نیو نیوز کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مشتعل مظاہرین سے راستے کھلوانے کیلئے تمام تر اقدامات کئے جائیں گےجہاں جہاں حالات خراب ہوں گے وہاں 24 گھنٹے موبائل، انٹرنیٹ سروس بند رکھی جائے گی اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

 خیال رہے کہ مذہبی جماعت کے کارکنوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کر دیا گیا ۔ اس وقت لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں نظام زندگی بری طرح متاثر ہے۔

لاہور ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مذہبی جماعت کے کارکنوں نے رائیونڈ اجتماع پلی، کرول گھاٹی، بتی چوک محمود بوٹی، شاہدرہ چوک، خیابان چوک، ایل ڈی اے چوک، کوٹ عبدالمالک، موہلنوال، چونگی امر سدھو، بھٹی چوک، یتیم خانہ چوک، سکیم موڑ، ای ایم ای سوسائٹی، داروغہ والا، شاہکام چوک، منڈ پلی اور بیگم کوٹ پر دھرنے دے کر تمام ٹریفک کو معطل کر دیا ہے۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم باوجود کوشش کہ دھرنے ختم نہیں کئے جا رہے۔ صورتحال کے پیش نظر ایلیٹ فورس، پولیس کی بھاری نفری اور رینجرز کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب صوبہ سندھ اور بلوچستان کے بھی کئی علاقے مذہبی جماعت کے احتجاج کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ کراچی، حیدر آباد، ٹنڈوالہ یار، سبی اور کوئٹہ سمیت دونوں صوبوں کے کئی شہروں میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔