توہین مذہب کا الزام، جکارتہ کے گورنر کا ٹرائل شروع

توہین مذہب کا الزام، جکارتہ کے گورنر کا ٹرائل شروع

جکارتہ:انڈونیشیا کے دارحکومت جکارتہ کے عیسائی گورنر باسوکی تجاجا کا توہین مذہب کے الزام کے تحت عدالت میں ٹرائل شروع ہو گیا ہے۔ گورنر کو سخت سیکورٹی میں عدالت لیا گیا جہاں عدالت کے باہر سیکٹروں کی تعداد میں سفید لباس پہنے مظاہرین احتجاج کر رہے تھے,مظاہرین مطالبہ گورنر کو جیل بھیجنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔


جکارتہ کے گورنر کا تعلق چینی انڈونیشیائی عیسائی کمیونٹی سے ہے، گورنر نے عدالت میں جذباتی تقریر کی اور کہا یہ کیسے ممکن ہے جس شخص کی پرورش اسلامی ماحول میں رہتے ہوئے ہوئی ہو وہ اسلام کی توہیں کیسے کر سکتا ہے۔

گورنر باسوکی عدالت میں بات کرتے ہوئے دو دفعہ رو پڑے اور بتایا کہ جب میں ایک ڈسٹرکٹ کا چیف تھا تو میں نے کس طرح غریب انڈونیشین کو حج پر بھیجوانے کے انتظام کیا۔

اگر گورنر پر جرم ثابت بھی ہو گیا تو1965 کے توہین مذہب منظور شدہ قانون کے تحت صرف پانچ سال قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔