سپریم کورٹ کو چاہیے حکومت کو ہٹا دے، پرویز مشرف

سپریم کورٹ کو چاہیے حکومت کو ہٹا دے، پرویز مشرف

لاہور: نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ عوام کو حکومت قبول نہیں اور عوام حکومت سے تنگ آ گئے ہیں اور یہ ملک کو مصیبت میں گھسیٹ رہے ہیں لہذا یہ خود چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو چاہیے حکومت کو ہٹا دے جب کہ حکومت کو ہٹانے کے لئے آئینی طریقہ نکالنا ہو گا اور سب کچھ ممکن ہے سپریم کورٹ ایک عبوری حکومت کو اختیارات دے کہ وہ آئین میں ترامیم کرے۔


پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری اور عمران خان کے ساتھ کنٹینر پر کھڑے ہونے کو تیار ہوں مگر آصف زرداری کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سی پیک میرا آئیڈیا تھا اور 2004 میں شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سینیٹ کے الیکشن ہوتے نظر نہیں آ رہے اور یہ انتخابات ہونے بھی نہیں چاہیئں کیونکہ سینیٹ الیکشن سے پہلے حکومت چلی جائے تو یہ ملک کے لیے بہتر ہے۔

سابق صدر نے کہا کہ ملک میں عدالتوں کا کوئی دہرا معیار نہیں اور موجودہ حکمران جماعت نے لوٹ مار کر کے ملک کو خساروں کے بوجھ تلے دبا کر معیشت کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ ان حکمرانوں نے چوریاں کیں اور ڈاکے ڈالے یہ لوگ خود کا موازنہ کیسے مجھ سے کر سکتے ہیں جب کہ میں ملک کو ترقی کی بلندیوں پر لے گیا تھا اور یہ عوام کو دھوکا دینے کے لیے کہہ رہے ہیں کہ مشرف کے لیے الگ اور ان کے لیے الگ عدالتی معیار ہے۔

امریکی ڈومور کی پالیسی پر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ہمیں بھی امریکا سے ڈومور کا مطالبہ کرنا چاہیے اور امریکی حکام سے کھل کر بات کر کے سب معاملات کو کلیئر کرنا چاہیے۔ اگر امریکا کو ہم سے شکایات ہیں تو ہمیں بھی ان سے کئی شکایات ہیں کیونکہ بھارت افغانستان کے راستے بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے۔ یہ معاملہ امریکا کے سامنے رکھنا چاہیے۔ دراصل امریکی سفارتی پالیسی ساز اداروں نے میرے سامنے کبھی حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید کو دہشتگرد قرار دینے کی بات نہیں کی یہ تو بھارت کی چال بازیاں ہیں جو امریکا سے کہہ کر حافظ سعید کو عالمی دہشتگرد قرار دلواتا ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں