کلبھوشن عام قیدی نہیں ، اس پر ویانا کنونشن کا اطلاق نہیں ہوتا، پاکستان

کلبھوشن عام قیدی نہیں ، اس پر ویانا کنونشن کا اطلاق نہیں ہوتا، پاکستان

اسلام آباد: بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان نے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں اپنا جواب جمع کروا دیا، جس میں بھارتی موقف کو مسترد کردیا گیا۔


ذرائع کے مطابق دفتر خارجہ کی ڈائریکٹر انڈیا فریحہ بگٹی نے عالمی عدالت انصاف میں جواب جمع کروایا۔پاکستان کا اپنے جواب میں کہنا تھا کہ کلبھوشن عام قیدی نہیں ہے اور اس پر ویانا کنونشن کا اطلاق نہیں ہوتا۔جواب میں کہا گیا، 'کلبھوشن ایک غیر ملکی جاسوس ہے، جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی غرض سے داخل ہوا تھا، جسے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا، اس لیے قیدیوں سے متعلق ویانا کنونشن کی شقوں کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا'۔پاکستانی جواب اٹارنی جنرل، لیگل ٹیم اور دفتر خارجہ کی ٹیم نے مل کر تیار کیا ہے، جس میں پاکستان کے موقف کو جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔پاکستانی جواب میں کلبھوشن یادیو کی تخریبی سرگرمیوں، ٹرائل اور چارج شیٹ کی تفصیلات بھی جواب میں شامل کی گئی ہیں۔

پاکستانی جواب کے بعد اب عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس پر سماعت کرے گی یا پاکستان اور بھارت کو مزید جواب دینے کی مہلت دے گی۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے جواب کے بعد بھارت کو جواب الجواب جمع کرانے کا موقع دیا جائے گا اور بھارتی جواب میں اگر کوئی سوال اٹھایا گیا تو پاکستان بھی ایک اور جواب دے گا۔جوابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد کلبھوشن کیس کی سماعت 2018 کے وسط تک شروع ہونے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ 18 مئی 2017 کو عالمی عدالت میں مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران بھارت نے موقف اختیار کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کو ویانا کنونشن کے مطابق قیدیوں کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔پاکستان کے پاس جواب جمع کرانے کا آج آخری دن تھا، عالمی عدالت انصاف نے پاکستان کو 13 دسمبر تک جواب جمع کرانے کا کہا تھا۔