نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ثالثی کی کوشش کروں گا ،مولانا فضل الرحمن

 نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ثالثی کی کوشش کروں گا ،مولانا فضل الرحمن

کراچی: جمعیت علمائے اسلام ( ف) کے مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ بعض سیاسی اور آئینی معاملات کے اختلافات کے خاتمے کے لیے نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ثالثی کی ضرور کوشش کروں گا ۔ فاٹا کے معاملے کو جمہوریت کے ذریعہ جبروط سے حل کرنے کے بجائے مشاورت اور عوامی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے ۔ متحدہ مجلس عمل بحال ہو   گی تو  ایک جماعتی،ا یک نام ایجنڈا، منشور اور انتخابی نشان پر مبنی انتخابی اتحاد ہو گا ۔ بار بار ملک کو بحرانوں سے دوچار کرنے کی بجائے کچھ تو قوم کو سکون کا موقع دیا جائے۔ عالمی قوانین کے مطابق بیت المقدس اسرائیل کا قانونی نہیں بلکہ مقبوضہ علاقہ ہے۔ امریکا کی جانب سے سفارت خانہ قائم کرنے کا اعلان عالمی قرار دادوں کو پامال کرنے کے مترادف ہے ۔


ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو قصر ناز میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اکرم خان درانی ، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا امجد خان ، مولانا راشد محمود سومرو ، قاری محمد عثمان ، مولانا عبدالکریم عابد اور میڈیا ترجمان سمیع سواتی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ سیاسی معاملات میں اختلافات کے خاتمے کے لیے موقع ملا تو نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں ۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دو دن سے قومی اسمبلی میں ایک ہنگامہ برپا ہے ، جس کی وجہ فاٹا کے حوالے سے بل کو ایجنڈے سے ہٹا دینا ہے ۔ اس موقع پر ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے حکومتی موقف کو سننا گوارا نہیں کیا اور یہ الزام لگایا کہ ایجنڈے سے فاٹا کے بل کو مولانا فضل الرحمن اور جمعیت علمائے اسلام کے دباؤ پر نکالا گیا ہے حالانکہ حقیقی صورت حال یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے اب تک جو ایک نکتے پرمشتمل موقف آیا ہے کہ بل کو فنی کمزوری کی وجہ سے ایجنڈے سے الگ کیا گیا ہے اور یہی درست بات لگتی ہے ۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم نے کبھی پارلیمنٹ پر دباؤ ڈالنے یا اسے بائی پاس کرنے کی کوشش نہیں کی ہے ۔ جو بل ایجنڈے میں شامل تھا ، وہ سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے سے متعلق تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام اور اس کے ماننے والے پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت یا جبر کے ذریعہ استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آئین کا آرٹیکل 247 جب تک برقرار ہے ، ایف سی آر کا قانون موجود رہے گا اور فاٹا وفاق کے زیر انتظام رہے گا ۔ آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت ہر صوبے کا اپنا ہائیکورٹ ہے ۔ یہ کیسے ممکن ہو گا کہ وفاق کے زیر انتظام ایک علاقے کو ایک ایسے صوبے کے ہائیکورٹ کا حصہ بنایا جو اس صوبے کا حصہ ہی نہیں ، اس بل کی منظوری سے آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ تھا اور یہی ہمارا سادہ سا موقف ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم فاٹا کے مسئلے کو جذبات کے بجائے سلیقے سے حل کرنا چاہتے ہیں ۔ آئین کو بالائے طاق رکھنا مناسب نہیں ہو گا ۔ فاٹا کی صورت حال یہ ہے کہ جہاں ایک طرف انضمام کے حق میں لوگ موجود ہیں ، وہیں پر صوبے کی حمایت اور موجودہ نظام کو برقرار رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اہم ان جماعتوں سے بھی اپیل کرتے ہیں ، جن کا کلمہ جمہوریت سے شروع ہوتا ہے اور جمہوریت پر ہی ختم ہوتا ہے ، وہ جماعتیں جمہوریت کے ذریعہ جبریت کو لاگو کرنے کی کوشش نہ کریں ۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ فاٹا کی ایک سپریم کونسل بنی ہے ، جس نے آج بھی درخواست کی کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعہ حل کیا جائے اور ان سے بات کی جائے ۔ میں اس کونسل کے مطالبے کی مکمل تائید اور حمایت کرتا ہوں ۔ ہم آئین کے مطابق معاملات کا حل چاہتے ہیں ۔ حزب اختلاف کی جماعتیں مل بیٹھ کر وزیر اعظم سے بات کریں اور اس تنازع کو حل کریں ۔ میں اپیل کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ پر دباؤ ڈالنے کی بجائے قانونی اور آئینی طریقے سے باہمی مشاورت سے اس مسئلے کا حل نکالیں ۔ اس کو دوسری طرف نہ لے جایا جائے ۔ قبائل کو مطمئن کرکے جو بھی حل نکالا جائے گا ، وہ ہمیں قابل قبول ہے ۔

مولانا فضل الرحمن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پوری قوم اور قبائل نے دو مرتبہ آصف علی زرداری اور نواز شریف کو موقع دیا کہ وہاں پر امن قائم کیا جائے۔ قبائل کے لوگ ابھی تک ملک بھر میں بکھرے ہوئے ہیں ۔ انہیں پہلے اپنے گھر تو آنے دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 2012 ء دسمبر میں قبائل کے 5 ہزار عمائدین پر مشتمل جرگہ نے ایک ڈیکلیئریشن منظور کیا ہے ، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ فاٹا کے حوالے سے یہ جرگہ جو بھی فیصلہ کرے گا ، وہ قابل قبول ہو گا اور اب اس جرگے نے فیصلہ کیا ہے کہ فاٹا کے معاملے میں فاٹا کے عوام سے رائے لی جائے تو اس جرگے کی رائے کا احترام ضروری ہے ۔ فاٹا اور حلقہ بندیوں کے معاملے پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اور سینیٹ میں بلوں کی نامنظوری کو ماضی کے دھرنوں سے جڑے ہونے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ خدا کے لیے ہم کب تک ایک بحران سے نکلنے سے پہلے دوسرے بحران کے تیاری کرتے رہیں گے ۔ قوم کو کچھ تو سکون ملنا چاہئے ۔ جو کچھ ہو ، آئین کے مطابق ہو ۔ اس وقت ہم بحرانوں کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاکھ خامیوں کے باوجود ہم یہ چاہتے ہیں کہ الیکشن بروقت ہوں ۔ کچھ لوگ قبل از وقت انتخابات کی بات کرتے ہیں ۔ قبل از وقت ہی کرانا ہے تو ایک مہینہ قبل بھی کرادیں تو بعض لوگ اس کو اپنی فتح سمجھیں گے اور بے شک اس پر خوش ہوں ۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ۔ ایم ایم اے کی بحالی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ایم ایم اے بحال ہو گی تو ایک انتخابی پارٹی ، منشور اور نشان کے ساتھ ہو گی اور مل کر الیکشن میں حصہ لیں گے اور قوم کے سامنے جائیں گے ۔ امید ہے کہ قوم مایوس نہیں کرے گی ۔ ایم ایم اے میں 6 جماعتیں شامل ہیں اور نئی جماعتوں کو شامل کرنے کا ایک پورا ضابطہ موجود ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام وفاق اور جماعت اسلامی صوبے میں حکومت کی اتحادی ہے اور یہ اتحاد حکومتی ہے ، انتخابی نہیں ۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے قائد آباد میں میڈیا کی وین پر حملے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ میڈیا والے بھی بڑے ظالم ہیں ۔ ان سے یہ پوچھا جائے کہ کیا تحریک انصاف نے اپنی سیاسی تاریخ میں اب تک کوئی ایک معقول کام کیا ہے ۔ میں تو ہمیشہ یہ کہتا رہا ہوں کہ یہ ہماری سیاست کا غیر ضروری عنصر ہے ۔ قومی حکومت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ فی الحال مجھے اس کا علم ہے نہ ہی کوئی رابطہ ہوا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے فلسطین کی صورت حال پر کہا کہ فلسطین کا تازہ بحران امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے بعد پیدا ہوا ہے ۔ اس معاملے پر ہمارا واضح موقف ہے کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق بیت المقدس ابھی تک اسرائیل کا حصہ نہیں ہے ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو حصہ کسی ملک کا قانونی حصہ نہ ہو اور کوئی دوسرا ملک اس حصے کو اس ملک کا دارالحکومت تسلیم کرے ۔ دراصل امریکی صدر نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو پامال کر دیا ہے ۔ مشرق وسطی کو بعض عالمی قوتیں متاثر کرنا چاہتی ہیں ۔ تمام ملکوں کو اپنی جگہ اس پر غور کرنا ہو گا اور ہمیں اس پر سیاست نہیں کرنی چاہئے ۔