امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خفیہ ایجنسیوں کے درمیان خلیج میں اضافہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خفیہ ایجنسیوں کے درمیان خلیج میں اضافہ
image by facebook

نیویارک : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کے درمیان ایک مرتبہ پھر  خلا سامنے آ  گیا ہے، دونوں اطراف کے نقطہ نظر  میں واضح فرق دکھائی دے رہا ہے۔


تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کے موقف میں واضح فرق سامنے آیا ہے ، ایک طرف امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ نے بیان دیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے براہ راست آرڈر جاری کیے ہیں تو دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بالکل مختلف بیان دیتےہوئے کہا   کہ سعودی حکومت اس حوالے سے تفتیش کر رہی ہے جس کے مکمل ہونے کے بعد معلوم ہوگا کہ کون قاتل ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسیوں سے امریکی صدر کا اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے، حکومت کے آنے کے بعد امریکی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے الزام سامنے آیا کہ روس کی جانب سے انتخابات کے نتائج میں ردوبدل کیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف امریکی حکومت نے اس کی یکسر مخالفت اور انکار کیا ۔

اسی طرح ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے قوانین میں بھی امریکی ایجنسیوں کا موقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یکسر مختلف تھا ، دوسری جانب ایرانی جوہری توانائی معاہدے اور شمالی کوریا کی جانب سے جوہری تنصیبات کے حوالے سے امریکی ایجنسیوں کے موقف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان میں زمین آسمان کا فرق سامنے آیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ابتدا سے ہی موقف رہا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں تحقیقات میں موثر طریقہ کار کو نہیں اپناتی ہیں جس کی وجہ سے جانی نقصان بھی ہوتا ہے ۔