میرے لاہور پر بھی اک نظر کر ۔۔۔تیرا مکہ رہے آباد مولا

میرے لاہور پر بھی اک نظر کر ۔۔۔تیرا مکہ رہے آباد مولا

13 فروری کی شام ہے اور لاہور مال روڈ انسانی خون سے سرخ ہو چکی ہے۔ فضا کی خنکی آہوں اور بینوں کی گونج میں حدت میں بدل گئی ہے ۔ایمبولینسوں کے ہوٹرز کا شور ،ہسپتالوں میں ایمرجنسی کا نفاذ،چینلز کے رپورٹرز کا کوریج کے لئیے جائےدھماکہ کے اردگرد کھڑے  ہو کر مسلسل بولنے کی وجہ سے ٹی وی سکرین سرخ ہو چکی ہیں۔ بریکنگ پہ بریکنگ، نیوز رومز کو مصروف رکھے ہوئے ہے اورر ات کی سیاہی کا جنم ہو رہا ہے ۔


دوستو یہ کسی افسانے یا کہانی کا ابتدائیہ نہیں ہے یہ لاہور مال رو ڈ پر کیمسٹ ایسوسی ایشن کے ڈرگ ایکٹ کے خلاف ہونے والے احتجاج میں دھماکے کا احوال ہے۔ لیکن یہ منظر 27 مارچ2016 کی شام کو گلشنِ اقبال پارک لاہور میں بھی ایسا ہی تھا۔ بدلا صرف مقام ہے اور عورتیں اور بچے نہیں ہیں لیکن خون کا رنگ بھی ایک سا ہے ۔اس سے قبل اگر بات کی جائے تو نجی ٹی وی کی گاڑی پہ حملہ اور اس میں انجینئیر کی شہادت اور اس بم دھماکہ کے دورانیہ میں کچھ زیادہ فرق نہیں دیکھنے میں آیا ۔

لاہور میں چند دن بعد پی ایس ایل کا فائنل بھی ہونا تھا جس کے بعد یہ قوی امکان تھا کہ پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کے امکانات روشن ہو جائیں گے لیکن ٹوٹے ہوئے دشمن کا ایک اور کمر توڑ وار سامنے آ گیا ۔

اب اگر ساری صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو سیکیورٹی ایجنسیوں کا یہ کہنا سامنے آتا ہے کہ اس دھماکے کے حوالے سے وہ الرٹ  کر چکے تھے اور یہ بیان اپنی روایت کے مطابق نہیں بدلا کیونکہ وزیراعظم ،صدر،سیاستدانوں نے روایتی مذمتی بیانات دے دے کر غمزدہ خاندانوں کی تکلیف میں مزید اضافہ کرنا ہے ۔

ان سب باتوں سے بالاتر ہو کر اگر لاہور کی سیکیورٹی پر نظر دوڑائی جائے تو صوبائی دارلحکومت کے داخلی اور خارجی راستوں پر عوامی انداز میں پولیس کے سپاہی چیکنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں کسی قسم کی ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کیا جاتا ،سیکیورٹی کیمرے عرصہ دراز سے بیکار پڑے صاحب بہادر کو دعائیں دے رہے ہیں اور اس بات کو مزید واضح کر رہے ہیں کہ ہم اپنے ساتھ کتنے مخلص ہیں ۔

اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ اس دھماکے کے پیچھے بھارت کا بھی ہاتھ ہو کیونکہ پاکستان دشمن مودی سرکار کسی بھی حد تک جا سکتی ہے ۔نیشنل ایکشن پلان پہ ایک بار پھر سوالیہ نشان آ گیا ہے ۔پنجاب کے اندر کہاں آپریشن کئیے گئے اور کتنی کامیابی ملی ،سہولت کاروں کا خاتمہ کتنے فیصد ہوا اور سلیپنگ سیلز میں موجود نیٹ ورکس کو توڑا گیا یا نہیں ؟ اس کا سوال کسی کے پاس نہیں ہے ۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے سنبھالنے کے بعد دہشت گردوں کی پنجاب میں یہ پہلی بڑی کارروائی ہے اور اس کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کا دعویٰ صرف دعویٰ ہے اورجنرل باجوہ کو بھی جنرل شریف کی طرح فرنٹ فٹ پہ کھلیتے ہوئے ملک بھر میں اہم آپریشنز ترتیب دینے ہوں گے اور اس مرض کا خاتمہ ان کے ہاتھوں ہی ہو جائے تو زیادہ بہتر ہو گا ۔شعیب بن عزیز کا شعر مسلسل میرے لبوں پہ مچل رہا ہے اور یہ شعر نہیں دعا ہے آئیے ہم سب مل کر کرتے ہیں

میرے لاہور پر بھی ایک نظر کر

تیرا مکہ رہے آباد مولا

وقاص عزیز< Blogger

وقاص عزیز نیو کےنیوزاینکر،نوجوان شاعر اور سماجی ورکر ہیں