غربت نے نیپالیوں کو گُردے بیچنے پر مجبور کر دیا

نیپال میں غربت سے ستائے افراد اپنی زندگی کا سودا کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ نیپال کے گاو¿ں”ہوکسے“ میں آباد لوگ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے اور اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنے گردے فروخت کر تے ہیں

غربت نے نیپالیوں کو گُردے بیچنے پر مجبور کر دیا

کھٹمنڈو: نیپال میں غربت سے ستائے افراد اپنی زندگی کا سودا کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ نیپال کے گاوں”ہوکسے“ میں آباد لوگ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے اور اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنے گردے فروخت کر تے ہیں۔ یہ گاو¿ں گردوں کی فروخت کے حوالے سے اتنا مشہور ہے کہ لوگ اس گاوں کو ” کڈنی ویلی“ کے نام سے جانتے ہیں ، اس گاوں میں ایک بھی بالغ فرد ایسا نہیں جس کے دونوں گردے موجود ہوں۔


ضرورت مند مال دار لوگوں کو گردے فروخت کرنے والے مڈل مین یا بروکر باقاعدگی سے ہوکسے اور آس پاس کے علاقے کا دورہ کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کو غربت سے چھٹکارا پانے کیلئے اپنا گردہ فروخت کرنے پر رضامند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر انھیں ناکامی کا سامنا نہیں ہوتا کیوں کہ گردے بیچنے کی روایت یہاں عام ہوچکی ہے اور لوگ اس عمل کو معقول رقم کے حصول کا آسان ذریعہ بھی سمجھنے لگے ہیں۔

جو شخص گردہ نکلوانے پر راضی ہوجاتا ہے اسے بروکر اپنے ساتھ جنوبی بھارت لے جاتے ہیں جہاں اسپتال میں ان کا آپریشن ہوتا ہے۔ گردہ نکال لیا جاتا ہے اور اسے ادائیگی کردی جاتی ہے۔ عام طور پر یہ رقم 2 ہزار امریکی ڈالر ہوتی ہے۔