شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز کی سماعت 15 فروری تک ملتوی

 شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز کی سماعت 15 فروری تک ملتوی

اسلام آباد: عدالت نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت مختصر کارروائی کے بعد 15 فروری تک ملتوی کر دی۔ نواز شریف کی جانب سے دو ہفتوں کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی گئی۔ ویڈیو لنک کے ذریعے بیانات کے حوالے سے سماعت بھی 22 فروری کو ہو گی۔


اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر 3 ریفرنسز کی مختصر سماعت کی۔ سماعت شروع ہوئی تو فاضل جج نے استفسار کیا کہ آج گواہ آئے ہیں جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ سارے گواہاں موجود ہیں۔ وکیل صفائی ہر تاریخ پر کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتے ہیں۔

اس موقع پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کی وفات پر سوگ کے اعلان کو بہانہ تو نہ کہیں۔ پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ بار بار گواہوں کا آنا مشکل ہوتا ہے، ہر تاریخ پر گواہ اپنا کام چھوڑ کر آتے ہیں۔  عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد سماعت 15 فروری تک کے لئے ملتوی کر دی۔ عدالت نے استغاثہ کے 4 گواہوں کو آج طلب کیا تھا جن کے بیانات بھی قلمبند نہ ہو سکے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر سخت سکیورٹی میں پیشی کے لئے احتساب عدالت پہنچے تھے۔

یاد رہے سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کئے ہیں جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہے۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن، حسین ، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا ہے۔

العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں