میاں صاحب کو مشورے دیں

 میاں صاحب کو مشورے دیں

 اس وقت آزادانہ اور منصفانہ عام انتخابات ہوجائیں توامکان ہے کہ مسلم لیگ نون سب سے بڑی پارلیمانی قوت کے طور پر سامنے آ ئے گی اور اسی ہلے میں پنجاب کلین سویپ ہوجائے گا۔ یہ منظرنامہ نواز لیگ کی بھرپور اپوزیشن نہیں بلکہ حکمرانوں کی نااہلی اور مہنگائی سے بن رہا ہے اور لوگوں کی امیدیں اس قیادت سے ہیں جس نے دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ جیسے بڑے مسائل کو حل کیا، ملک کو انفراسٹرکچر اور اقتصادی استحکام دیا، اسے ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔

 چند روز قبل مسلم لیگ نون نے مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد کیا،علم نہیں کہ اس کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی کیونکہ ملک میں جمہوریت مانگنے والی اس جماعت میں جمہوری روایات کافی کمزور ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ نواز شریف اپنے پارٹی رہنماؤں کی نہیں سنتے مگر یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ ان کی پارٹی میں سیاسی اور جمہوری ادارے مضبوط ہیں۔ اسی کی مثال لے لیجئے کہ ورکنگ کمیٹی ہو یا جنرل کونسل، یہ پارٹی کے بنیادی فیصلہ ساز ادارے ہیں مگر مجال ہے کہ، اپنے رسمی انتخاب کے سوا،کوئی فیصلہ ان اداروں میں لیا جاتا ہو۔ میاں نواز شریف نے جنرل عمر کے بیٹے کو مذاکرات کے لیے بھیجنا ہے یاجلسے میں جرنیلوں کے نام لینے کا رسک لینا ہے، ان تمام بنیادی فیصلوں میں پارٹی اداروں اور رہنماؤں کا کردار تالیاں بجانے اور وضاحتیںپیش کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ ابھی مجلس عاملہ کا اجلاس کا سب سے بڑا فیصلہ تھا کہ میاں نواز شریف جو مرضی فیصلہ کریں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ پارٹی کے ملک بھر سے چنے ہوئے دماغ اکٹھے کئے گئے اور ان کے پاس نہ اتنی طاقت تھی اور نہ ہی اہلیت کہ وہ کوئی فیصلہ کر سکتے حالانکہ یہی وہ لوگ ہیں جو ملک میں حکومت کا مقابلہ کر رہے ہیں جبکہ میاں نواز شریف خودباہر ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ ان کے پاس تمام اطلاعات موجود ہوں گی مگر آپ کو بھی یہ ماننا پڑے گا کہ میدان میں رہنے اور بیرون ملک رہنے میں فرق ہوتا ہے۔میں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا تو پارٹی کی ایک ہمدرد خاتون بولیں، حیرت کیسی، فیصلے بڑے ہی کرتے ہیں، میں نے بصد احترام کہا، محترمہ، سیاسی جماعت اور گھر میں فرق رہنے دیں اور اب تو گھروں میں بھی گھروالوں کی مرضی کے بغیر فیصلے نہیں ہوتے، آپ سیاسی جماعت کی بات کرتی ہیں۔ اگر فیصلے مسلط ہی کرنے ہیں تو پھر ہمیں جمہوری اور سیاسی جماعتوں کی کیا ضرورت ہے؟

ذرا پانی کا گلاس لیجئے گا، چند گھونٹ پیجئے گا اور میری اس استدعا پر غور کیجئے جو کالم کے عنوان کے طور پر موجود ہے کہ نواز شریف کو مشورہ دیں۔ یہ استدعا جہاں نواز لیگ کے اداروں اور رہنماؤں سے ہے وہاں پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی والوں بھی عمران خان اور آصف علی زرداری کے لئے یکساں ہے لیکن نواز لیگ چونکہ ا س وقت سب سے مقبول پارٹی سمجھی جا رہی ہے تو ان سے کہنا ہے کہ میاں نواز شریف سب سے مدبر سہی، سب سے تجربہ کار سہی مگر ان کا غلطیاں کرنے کا ریکارڈ بھی، شائد، سب سے زیادہ ہے۔میںاسی، نوے کی دہائی ڈسکس نہیں کرنا چاہتا کہ اس دور کی غلطیاںماضی کا حصہ بن چکیں، بہت ساری باتیںبھول بھی چکیں لیکن اگر پچھلے بیس پچیس برس کا ہی جائزہ لیا جائے تو میاں نواز شریف نے بلنڈرز کئے ہیں۔ اگر وہ پارٹی کے اداروں سے مشورے کرتے تو یقینا ان کے فیصلے اتنے ہی بہتر ہوتے جیسے انہوں نے ایٹمی دھماکوں سے پہلے مشورے کئے اور قومی مفاد میںا یک بہادرانہ فیصلہ کیا۔ ان کا ایک بلنڈر جنرل پرویز مشرف جیسے کمانڈواور کمانڈرکی جگہ ایک ایسے آرمی چیف کا تقرر تھا جس کے پاس نہ کور کی سربراہی تھی نہ کوئی اپنا وزن، سویہ فیصلہ بدترین ردعمل دے گیا، فوج نے نواز شریف کے منشی نظر آنے والے شخص کو اپنا چیف ماننے سے انکار کر دیا۔اب یہ تمام باتیں تاریخ کا حصہ بن چکیں، کتابوں میں چھپ چکیں کہ نواز شریف کو بارہ اکتوبر ننانوے کی رات کہا گیا کہ وہ اسمبلیاں توڑدیں تو مارشل لا نہیں لگے گامگر یہ نواز شریف کا غصے اور ہٹ دھرمی میں ایک اور بڑا بلنڈر تھا کہ انہوں نے انکار کرکے قوم پرایک اورآمریت مسلط کر دی کہ میں نہیں تو پھر کھیل ہی نہیں۔ اسی غلطی پروہ عدالت سے موت کی سزا پاتے پاتے بچے اور خاندان سمیت جلاوطنی برداشت کی۔ وہ درخت جس کا تنا طوفان میں جھکنے کی لچک نہیں رکھتا وہ ٹوٹ جاتا ہے۔ مجھے علم ہے کہ آپ مجھے کتابی باتوں سے زچ کرنے کی کوشش کریں گے مگر میں قائل ہوں کہ بڑے سیاسی رہنماؤں کی خوبی ان کی معاملہ فہمی ہوتی ہے ، ہٹ دھرمی اور انا نہیں۔

پیپلزپارٹی کے ساتھ میثاق جمہوریت ایک اچھا اقدام تھا مگر پیپلزپارٹی کے ساتھ سیاسی اور کافی حد تک انتخابی اتحاد اتنی ہی بڑی غلطی۔ میں اس وقت کو یاد کرتا ہوں تو مسکرادیتا ہوں جب میاں نواز شریف آج سے بارہ، تیرہ برس پہلے میرے سوالوں پرناراض ہوئے تھے۔ میں پوچھتا تھا میاں صاحب، آپ پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد کر رہے ہیں کیا یہ آپ کی نظریاتی بنیاد، شناخت اورووٹ بنک کو متاثر نہیں کرے گا اور میاں صاحب باقاعدہ تپ جاتے تھے۔ میرے سوال کی اہمیت اس وقت واضح ہوئی جب عمران خان نے عوام کو یقین دلایا کہ نواز شریف اور آصف زرداری ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیںاور نواز شریف کے شہر سے ہی تاریخ ساز پولیٹیکل اوپننگ کر ڈالی۔اس وقت سے بھی پہلے میاں نواز شریف کی غلطی تھی کہ انہوں نے عام انتخابات کابائیکاٹ کر دیا تھا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ یہ فیصلہ واپس لینے کے بعد انہوں نے بے نظیر بھٹو کی شہادت پر دوبارہ یہی اعلان بغیر کسی کے مشورے کے از خود ہی کر دیا، وہ تو شکر ہے پیپلزپارٹی نے اس حماقت سے گریز کیا۔ میاں نواز شریف کی غلطی یہ بھی تھی کہ وہ ایک جمہوری حکومت کے خلاف میمو سکینڈل میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ بن کے عدالت پہنچ گئے اور ابھی پیر اعجاز الحق کی دعوت میں حامد میر بتا رہے تھے کہ جنرل راحیل شریف ملازمت میں توسیع چاہتے تھے ۔ یہاں بھی میاں نواز شریف حالات کی سنگینی کو سمجھ کر فیصلہ نہ کرپائے۔لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان کے آزادی مارچ سے وہ چوہدری نثار علی خان کے مشوروں کے مطابق نمٹتے تو کامیاب رہتے مگر انہوں نے چوہدری نثار کوہی پارٹی سے ہی نکال دیا۔ ابھی گذشتہ برس لندن سے پارٹی کو اعتماد میں لئے بغیر خفیہ مذاکرات کئے تو غلطی کی اور طبل جنگ بجایا تب بھی غلطی کی۔ میری نظر میں تو ان کی موجودہ جلاوطنی بھی غلطی ہے۔ اگر وہ پاکستان میں ہوتے تو سیاسی جن ہوتے جو ایک بوتل میں بند ہوتا۔ اب ان کی پارٹی کو مضحکہ خیز میڈیکل رپورٹوں کا دفاع کرنا پڑ رہا ہے۔

نواز شریف کو ملکی مسائل حل کرنے اور تعمیر و ترقی کا کریڈٹ ضرور دیں مگر عاجزانہ درخواست ہے کہ انہیں ڈس کریڈٹ کی عادت بھی ڈالیں۔ انہیں ماننا ہو گا کہ انہیں جب بھی حکومتی جہاز کی کپتانی ملی وہ ہمیشہ طوفانی لہروں سے بچاتے ہوئے ساحل تک لے جانے میں ناکام رہے، ہمیشہ اسے ڈبویا ۔ وہ خود لائف جیکٹ پہن کرسمندر سے نکل گئے مگر حکومتی جہاز کے مسافروں کوشارکوں کے سامنے چھوڑ دیا۔ یقین کیجئے مثالیں تو اور بھی دی جا سکتی ہیں مگرآپ کو صرف یہ باور کروانا ہے کہ میاں صاحب کی فیصلہ سازی کی قوت ہرگز ہرگز شاندار نہیں، ان کے ریکارڈ پر غلط فیصلے بہت زیادہ ہیں، سو، اے پارٹی کے رہنماؤ اور ادارو، جب کبھی موقع ملے تو میاں نواز شریف کو بہتر مشورہ دے دیا کرو،وہ مانیں یا نہ مانیں، یہ مت کہا کرو کہ میاں صاحب آپ جو بھی فیصلہ کریں ہم اسے غلاموں اورنوکروں کی طرح مان لیں گے،اس سے میاں صاحب کی شان کم نہیں ہوگی لیکن پارٹی میں جمہوریت ضرور آئے گی جس کا مطالبہ آپ لوگ ملک کے لئے کر رہے ہو۔

مصنف کے بارے میں