چین میں سزائے موت کے قیدی کیلئے اہل خانہ کی رحم کی اپیل

اسلام آباد: چین میں منشیات اسمگلنگ کے الزام میں سزائے موت کے قیدی 50 سالہ شاہ حسین کے اہل خانہ نے پاکستان اور چین کی حکومتوں سے معاملے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔

شاہ حسین کی سزائے موت پر جمعہ کے روز عمل درآمد کیا جائے گا۔شاہ حسین کے بڑے بیٹےکا کہنا ہے کہ والد کو چین میں منشیات اسمگلنگ کے کیس میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔اس نے دعویٰ کیا کہ اس کے والد کو بے بنیاد اور غلط مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

صدام حسین کا مزید کہنا تھا کہ ان کے اہل خانہ کو 6 جنوری کو چین سے ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی تھی اور کال کرنے والے نے اپنا تعارف چین میں قائم پاکستانی سفارت خانے کے عہدیدار محمد مختار کے نام سے کرایا، جس نے شاہ حسین کی سزائے موت کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔

پاکستانی سفارت کار نے بتایا تھا کہ 'حسین کی سزائے موت پر 13 جنوری کو عمل درآمد کرایا جائے گا'، عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ اگر سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد وہ شاہ حسین کی لاش وصول کرنا چاہیں تو انھیں اپنی مدد آپ کے تحت چین آنے اور دیگر انتظامات کرنا ہوں گے۔

شاہ حسین کے بیٹے کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خاندان کا ان کے والد سے گذشتہ 3 سال سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

اس نے بتایا کہ اس کا والد جو پیشے سے ایک ڈرائیور ہے، 3 سال قبل ایران کیلئے نکلے تھے، اور ان کے جانے کے بعد ایک سے دو ماہ تک ان کا اپنے اہل خانہ سے فون پر رابطہ رہا اور اس کے بعد انھون نے رابطہ نہین کیا، جس کے بعد اسے ان کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہوسکیں۔

دو سال تک مبینہ طور پر لاپتہ رہنے کے بعد شاہ حسین کے اہل خانہ کو چین میں موجود پاکستانی عہدیدار کا فون آیا اور اس نے بتایا کہ شاہ حسین کو منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

صدام حسین کا کہنا تھا کہ 'ہمیں بتایا گیا کہ والد کو گوانگ حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے'۔

جس کے بعد ان کے اہل خانہ مستقل چینی حکام کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے اور وزارت خارجہ سے بھی رابطہ کیا گیا، اور ان سے معاملے میں مداخلت کیلئے کہا گیا۔

شاہ حسین کے بھائی شاہد حسین نے وزارت خارجہ سے رابطہ کرکے چین کے ڈائریکٹر کو ایک درخواست جمع کرائی جس میں انتظامیہ سے کہا گیا تھا کہ وہ اس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیں۔

لیکن شاہ حسین کے اہل خانہ کے مطابق انھیں اب تک اس حوالے سے چین کے حکام کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ شاہ حسین کے بیٹے صدام حسین نے ان کے والد پر لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ وہ پشاور کے مضافاتی علاقے میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ان کے والد پر اسگلنگ کا الزام لگایا گیا ہے۔

صدام حیسن نے حکومت کو پاک چین دوستی کا واسطہ دے کر اس کے والد کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے، اس کے علاوہ انھوں نے حکومت پاکستان، انسانی حقوق کے رضاکاروں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے رضاکاروں سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ شاہ حسین کے 7 بچے ہیں، اس کی اہلیہ کا 3 سال قبل انتقال ہوا تھا۔