ماں کے بلڈ پریشر سے بچے کی جنس کا تعین کیا جا سکتا ہے ، ماہرین

اسلامآباد: ویسے تو پیدائش سے قبل بچے کی جنس کا تعین الٹراساﺅنڈ سے ہی ممکن ہوتی ہے مگر حمل سے قبل خاتون کا بلڈ پریشر بھی اس کی پیشگوئی میں مدد دے سکتا ہے۔

یہ دعویٰ کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ٹورنٹو کے ماﺅنٹ سینائی ہاسپٹل کی تحقیق میں بچے کی پیدائش سے قبل کسی بچے کی جنس کی پیشگوئی کا بہترین طریقہ حاملہ خاتون کے بلڈ پریشر کو دیکھنا ہے۔

تحقیق کے دوران محققین نے ڈیڑھ ہزار کے قریب خواتین کا جائزہ لیا جو مستقبل قریب میں ماں بننے والی تھیں۔

تحقیق کے دوران ان خواتین کے حمل سے قبل اور اس کے دوران بلڈ پریشر ، کولیسٹرول اور گلوکوز لیول وغیرہ کو دیکھا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ حمل سے قبل بلڈ پریشر اگر بڑھا ہوا ہو تو خواتین کے ہاں لڑکوں کی پیدائش کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس سے قبل پہلے یہ جائزہ کبھی نہیں لیا گیا تھا کہ بلڈ پریشر بچوں کی جنس کا تعین کرتا ہے۔

ان کا تو دعویٰ تھا کہ حمل سے 26 ہفتے قبل ہی پیشگوئی ممکن ہے کہ ماں لڑکے کو جنم دے گی یا لڑکی کو۔

تاہم کچھ طبی ماہرین نے نتائج پر شکوک کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایسا پہلے کبھی سننے میں نہیں آیا۔

ان کے بقول یہ بہت حیران کن ہے کہ بلڈ پریشر کی بنیاد پر بچے کی جنس کا تعین کردیا جائے جو کہ ناممکن لگتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے امریکن جرنل آف ہائپرٹینشن میں شائع ہوئے۔