وزیراعظم کی تنقیدکپتان کیلئے اعزاز، عمران خان نے چپ کا روزہ توڑ دیا

دو روز سے خاموش عمران خان نے چپ کا روزہ توڑ دیا۔ وزیراعظم کی تنقید کو اپنے لئے اعزاز کی بات قرار دیدیا،،کہتے ہیں مسئلہ یہ ہے کہ ان کے اکاﺅنٹ ترقی نہیں کر رہے ۔

وزیراعظم نوازشریف نے دو روز میں عمران خان کیخلاف تین دھواں دھار تقریریں کیں لیکن کپتان نے تو جیسے لب سی لئے

صحافیوں نے استفسار کیا تو خوب انکساری دکھائی ،کہنے لگے میاں صاحب ان کی برائی کرتے ہیں تو وہ اسے اعزاز کی بات سمجھتے ہیں،لیکن اگر وہ تعریف کریں گے تو میں گھبرا جاﺅں گا۔

ڈیکلریشن اور نااہلی ایک ساتھ نہیں ہوسکتی : سپریم کورٹ، پاناما کیس کی سماعت پیر تک ملتوی
چلتے چلتے وزیراعظم پر ایک وار بھی کر گئے ،کہتے ہیں مسئلہ یہ نہیں کہ ملک میں ترقی نہیں ہو رہی ،،اصل مسئلہ یہ ہے ان کے بینک اکاﺅنٹ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی نہیں کر رہے۔صحافیوں نے لوہا گرم دیکھا تو ایک چوٹ اور لگا دی ،لیکن کپتان بھانپ گئے،پاناما کیس کی سماعت میں شرکت کا کہہ کر سپریم کورٹ کی جانب ہو لئے۔

واپسی پر پھر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کیلئے فیصلہ کن وقت ہے، نیب آرڈیننس تبدیل کرنے کی ضرورت نہیںوزیراعظم کو تبدیل کرنا چاہئے۔پاناما لیکس کی سماعت کے بعد عمران خان کا کہنا تھا کہ آج واضح ہو گیا کہ منی ٹریل ثابت کرنے کیلئے حکمرانوں کے پاس کوئی دستاویزات نہیں،پہلے ہمیں کہتے تھے عدالت آﺅاب خود بھاگ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے وزیراعظم کو صادق اور امین ہونا چاہئے لیکن ہمارے وزیراعظم اتنے بھولے بھالے ہیں کہ ان کے بچے ارب پتی بن گئے اور انہیں پتا ہی نہیں چلا،سنا ہے اب پھرکسی عرب شہزادے کا خط آ رہا ہے۔عمران خان نے بڑے مگرمچھوں کو جیل میں ڈالنے کا آسان نسخہ بھی بتا دیا،کہتے ہیں نیب ان کے حوالے کریں پھر دیکھیں کرپشن کا خاتمہ کیسے ہوتا ہے ،نیب آرڈیننس کے بجائے وزیراعظم کو تبدیل کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا۔
اس سے قبل صحافیوں کے استفسار پر عمران خان نے وزیراعظم کی تنقید کو اپنے لئے اعزاز قرار دیا،ان کا کہنا تھا کہ گبھرانے والی بات تب ہو گی جب وزیراعظم ان کی تعریف کریں گے ۔

مصنف کے بارے میں