ڈیکلریشن اور نااہلی ایک ساتھ نہیں ہوسکتی : سپریم کورٹ، پاناما کیس کی سماعت پیر تک ملتوی

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی ۔ وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے خلاف آرٹیکل 62 کے تحت نااہلی کے لئے عدالتی ڈیکلیریشن ضروری ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر نااہلی نہیں ہوسکتی۔

پاناما کیس میں وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل آج بھی جاری رہے ،ان کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی کی نااہلی کیلئے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہوتی ہے۔
ٹھوس شواہد کےبغیر نااہلی نہیں ہو سکتی، کسی کی نااہلی کامعاملہ کاغذات نامزدگی کے وقت اٹھایا جاسکتا ہے۔ مخدوم علی خان کا مزید کہناتھا کہ وزیر اعظم کے خلاف آرٹیکل 62 کے تحت نااہلی کے لئے عدالتی ڈیکلیئریشن ضروری ہے،ڈیکلیئریشن اور نااہلی ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔

وزیراعظم کی تنقیدکپتان کیلئے اعزاز، عمران خان نے چپ کا روزہ توڑ دیا
اس موقع پر وزیر اعظم کے وکیل نے پرویز مشرف کی نااہلی اور جہانگیر ترین کیس کا بھی حوالہ دیا ۔ان کا کہنا تھاکہ مشرف کیس میں ڈیکلریشن سپریم کورٹ نے دیا تھا سابق صدر کی نااہلی کا فیصلہ عدالتی فیصلوں کی روشنی میں ہوا،جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سوال اٹھایا کہ کیا ڈیکلریشن اور نااہلی ایک ساتھ نہیں ہوسکتی ، عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ پرویز مشرف نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی، جبکہ بینچ کے رکن جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ مشرف کیس میں ڈیکلیئریشن سپریم کورٹ نے دیا تھا۔ مخدوم علی خان کے دلائل جاری تھے کہ کیس کی مزید سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کردی گئی ۔

مصنف کے بارے میں