اسد رجیم کے مزید 18 اہم ارکان امریکی بلیک لسٹ میں شامل

نیو یارک: امریکہ نے پہلی بار شامی حکومت کی ڈیڑھ درجن اہم شخصیات کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

وائیٹ ہاوس کی طرف سے پہلی بار بشارالاسد کے 18 مقربین جن میں کیمیائی اسلحہ کے استعمال کے الزامات کا سامنا کرنے والے عہدیدار بھی شامل ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے بلیک لسٹ کی گئی شخصیات کی فہرست میں شامی ریسرچ سینٹرل کے عہدیدار اور ایک سینیر فوجی افسر بھی شامل ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے شعبہ انسداد دہشت گردی سے وابستہ آدم زوبن نے شامی شخصیات کو بلیک لسٹ کیے جانے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسد رجیم کی طرف سے اپنی قوم کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال سنگین جرم اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسد رجیم طویل عرصے سے پوری دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ وہ نہ تو کیمیائی ہتھیار تیار کررہی ہے اور نہ ممنوعہ اسلحہ عوام کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر پوسٹ ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ شام میں حکومتی شخصیات پر پابندیاں اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کی روشنی میں عاید کی گئی ہیں جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اسد رجیم نہتے شہریوں کے خلاف کلورین گیس جیسا مہلک اسلحہ استعمال کرنے کی مرتکب ہوئی ہے۔

مصنف کے بارے میں