سا م سنگ کمپنی کے سر براہ نے عوام سے معافی ما نگی لیکن کیو ں ؟

جنوبی کوریا کی معروف کمپنی سام سنگ کے سربراہ تفتیش کی زد میں ہیں

سیول:  جنوبی کوریا کی معروف کمپنی سام سنگ کے سربراہ تفتیش کی زد میں ہیں۔ لی جائے یونگ سے کرپشن اسکینڈل میں ملوث ہونے کے الزام میں پوچھ گچھ کی گئی۔جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں سام سنگ کمپنی کے نائب صدر لی جائے یونگ کرپشن اسکینڈل میں اسپیشل پراسیکیوٹر کے روبرو پیش ہوئے۔جہإں انہیں اسکینڈل میں عائد الزامات پر کرنا پڑا پراسیکیوٹرز کے مختلف سوالات کا سامنا۔سام سنگ کمپنی پر جنوبی کوریا کی صدر پارک گن ہئی اور کرپشن اسکینڈل کی مرکزی کردار چوئی سُن سِل کی تنظیموں کو اکتیس لاکھ ڈالرز کے عطیات دینے کا الزام ہے،سام سنگ کمپنی نے ان تنظیموں کو یہ عطیات ایک متنازع کاروباری فیصلے کی سیاسی حمایت کےعوض دئیے تھے۔

پراسیکیوٹرز کے سامنے پیشی پرلی جائے یونگ نے اپنے اس عمل پرعوام سےمعافی مانگی ہے، جبکہ انہوں نے اس حوالے سے مزید کچھ کہنے سے گریز کیا۔کرپشن اسکینڈل میں ملوث جنوبی کوریا کی صدرپارک گن ہئی کے خلاف مواخذے کی تحریک چلی تھی، جس کے بعد گزشتہ سال دسمبر میں پارلیمان میں ووٹنگ کے بعد ان کومعطل کردیا گیا تھا۔دسمبرمیں پارلیمانی سماعت کے دوران سام سنگ نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے چوئی سن سل کی دو تنظیموں کو ایک کروڑ ستر لاکھ ڈالر کے عطیات دیئے ہیں ،تاہم کمپنی نے اس کے عوض کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا۔