قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کے اختیارات محدود، نئی سلیکشن پالیسی بن گئی

National team head coach Misbah-ul-Haq's powers became limited
کیپشن: فائل فوٹو

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) ذرائع کے مطابق قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق سے ٹیم منتخب کرنے کا اختیار واپس لیتے ہوئے نئی پالیسی تشکیل دیدی گئی ہے جبکہ ان کے دیگر اختیارات کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بابر اعظم بااختیار کپتان بن کر ٹیم منتخب کریں گے جبکہ ہیڈ کوچ کا کردار مشاورت کا ہوگا۔ اس سے قبل مصباح الحق کپتان سے مشورہ کرکے ٹیم کو حتمی شکل دیتے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے جنوبی افریقہ کیخلاف سیریز میں ٹیم منتخب کرنے کا حتمی اختیار کپتان بابر اعظم کو دے دیا ہے۔ تاہم بابر اعظم، ہیڈ کوچ مصباح الحق اور دیگر کوچز وقار یونس اور یونس خان سے مشاورت کر سکیں گے۔

خبریں ہیں کہ کرکٹ کمیٹی کے اراکین وسیم اکرم، عمر گل اور عروج ممتاز نے ہیڈ کوچ مصباح الحق کو نہ ہٹانے کی تجویز دی ہے۔ ادھر جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیم کا اعلان نئے چیف سلیکٹر محمد وسیم جمعے کو کریں گے۔

محمد وسیم کھلاڑی منتخب کرنے سے قبل سلیکٹرز، کپتان بابر اعظم اور مصباح الحق سے مشاورت کریں گے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیم کے اعلان کے بعد 19 جنوری سے کرکٹرز کا بائیو سیکیورببل شروع ہوگا۔ ٹیم جوائن کرنے سے قبل ہر کھلاڑی کو ایک کوویڈ ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا۔

خیال رہے کہ دورہ نیوزی لینڈ کیخلاف قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی کو سکٹ تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کپتان بابر اعظم کے زخمی ہونے کے بعد قومی ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری وکٹ کیپر محمد رضوان کے کاندھوں پر آئی جنہوں نے اپنی انفرادی کارکردگی سے تو سب کو متاثر کیا لیکن دیگر کھلاڑیوں کی پرفارمنس مایوس کن رہی۔

ان کے علاوہ اظہر علی اور نوجوان آل راؤنڈر فہیم اشرف نے اچھے بلے بازی کا مظاہرہ کیا لیکن قومی ٹیم سیریز ہار گئی۔ اس کی ساری ذمہ داری ٹیم مینجمنٹ پر ڈالی گئی لیکن ہیڈ کوچ مصباح الحق نے اس کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ دورہ نیوزی لینڈ سے واپسی پر انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ کوئی معافی مانگنے نہیں آئے بلکہ شکست کی وجوہات بتانے آئے ہیں، ان کے اس بیان پر میڈیا اور تجزیہ نگاروں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔