خاتون پروفیسر کو آن لائن کلاس کے دوران غلط ویڈیو اپلوڈ کرنا مہنگا پڑ گیا

خاتون پروفیسر کو آن لائن پر غلط ویڈیو اپلوڈ کرنا مہنگا پڑ گیا

لندن  : خاتون پروفیسر نے آن لائن پورٹل پر لیکچر کے کی ویڈٰیو شئیرکرتے ہوئے غلطی سی وہ ویڈیو اپلوڈ کردی جس کی توقع طالبعلموں کو بھی نہ تھی.

تفصیلات کے مطابق خاتون ٹیچر نے آن لائن کلاس کے دوران ایسی ویڈٰیو اپلوڈ کردی جس میں اس نے طالب علموں کو ایڈیٹ کہا تھا ۔ اس ویڈٰیو میں خاتون پروفیسراپنی ساتھی اساتذہ کے ساتھ اپنے طالبعلموں کی باتیں شئیر کررہی تھیں کہ دران لیکچر وہ کس طرح بار بار ڈسٹرب کرتے ہیں ۔

اسی خغت کے نتیجے میں اس نے اپنے طالبعلموں کو ایڈٰیت کہا اوردیگر غیر شائستہ الفاظ بھی استعمال کیے ، خاتون نے ساتھ پروفیسر سے کہا کہ طالبعلم پھبتیاں بھی کستے ہیں اور لطیفے بھی گھڑتے ہیں ، جس سے وہ تنگ ہیں ،ساتھی پروفیسروں کے ساتھ ہونے والی  یہ گفتگو حادثاتی طور پر ریکارڈ ہوگئی ، اور ویڈیو ریکارڈ ہونے کےبعد کارڈیف یونیورسٹی کے بائیو سائنس  کلاس کے طالبعلموں کے آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ بھی ہوگئی ۔ 

جیسے ہی طالبعلموں  نے یہ ویڈیو دیکھی تو انہوں نے آن کی آن میں آگے شئیر کرنا شروع کردی اور پل بھر میں ویڈیو ہر طرف وائرل ہوگئی ۔ خاتون کی ویڈیو میں گفتگو تھی کہ ابھی میں نے اپنا لیکچر شروع ہی نہیں کیا تھا کہ چیٹ باکس میں طالبعلموں نے شور ڈالنا شروع کردیا کہ وہ میرے خلاف احتجاج کریں گے اور پورٹل پر پٹیشن دائر کریں گے ۔ 

چونکہ آن لائن امتحان کے لیے چارگھنٹوں کا وقت دیا ہوا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ نیت کی سپیڈ بھی ٹھیک ہوگی یا نہیں لہذا وہ  میرے خلاف احتجاج کرنا چاہتے ہیں ۔

یہ مسلہ ساتھی پروفیسروں کے ساتھ ڈسکس کرتے ہوئے خاتون پروفیسر نے غصے میں آکر اپنے طالبعلموں کو گالی دے دی ۔ اور یہ ہی حادثاتی طور پر ریکارڈ کر بیٹھی ور غلطی سے آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ بھی کر بیٹھی جسے اسٹوڈینٹس نے وائرل کردیا  اور پروفیسر کی مصیبت میں اضافہ کردیا ۔