یمنی شادیوں میں ہوائی فائرنگ کرنے پر "دولہا" کو جیل جانا پڑے گا

یمنی شادیوں میں ہوائی فائرنگ کرنے پر

یمن : جنوبی صوبے لحج کے دوسرے بڑے شہر ردفان میں انتظامیہ نے شادی اور دیگر تقریبات کے موقع پر ہوائی فائرنگ کے رجحان کو روکنے کے لیے غیر مسبوق نوعیت کے سخت عقوبتی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان میں نمایاں ترین "دولہا" کو یا "دُلہن" کے والد کو جیل بھیجنا ہے۔


یمن کے اکثر شہروں میں شادی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کا رواج پایا جاتا ہے۔ عام طور پر اس کے نتیجے میں لوگوں کے ہلاک ہونے یا زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ ہوائی فائرنگ قریب میں رہنے والے افراد کے لیے بے سکونی کا باعث بھی بنتی ہے۔

یمنی وزارت داخلہ کے اعداد وشمار کے مطابق رواں برس عید الفطر کی تعطیلات کے دوران شادیوں کے موقع پر ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں 32 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں آٹھ خواتین اور چھ بچے شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں خود فائرنگ کرنے والے کئی افراد شامل ہیں۔

ردفان شہر میں منگل کے روز انتظامیہ کا ایک اہم اجلاس ہوا جس کی صدارت شہر کی سکیورٹی کے سربراہ کرنل مختار النوبی اور شہر کی سکیورٹی کے ڈائریکٹر کرنل جلال محمد سالم نے کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شادی بیاہ اور تقریبات کے موقع پر ہوائی فائرنگ کرنے والے کو سخت تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

اس سلسلے میں شادی کے موقع پر حکومتی اجازت یافتہ نکاح خواں حضرات لڑکے اور لڑکی والوں کو کسی بھی قسم کی ہوائی فائرنگ نہ کرنے کا پابند بنائیں گے۔ اس سلسلے میں سکیورٹی حکام کی جانب سے ان نکاح خوانوں کو فراہم کیے جانے والے خصوصی فارم کو دولہا سے اور دُلہن کے ولی سے پُر کرایا جائے گا۔ کسی بھی قسم کی فائرنگ کے واقعے کی ذمے داری صاحبِ تقریب یا دولہا اور یا پھر دلہن کے ولی پر عائد ہوگی۔

قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں مذکورہ ذمے دار افراد کو سکیورٹی حکام کم از کم 10 روز تک جیل میں رکھیں گے.. اور ان کو ایک لاکھ یمنی ریال (تقریبا 400 امریکی ڈالر) جرمانے کی ادائیگی کے بعد ہی رہا کیا جائے گا۔

شادیوں کے موقع پر گزشتہ برس ایک سنگین واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ایک دُلہن نے اپنے دولہا کے ہتھیار کے ساتھ مذاق میں کھیلتے ہوئے اُسے غلطی سے ہلاک کر ڈالا تھا۔

بعض حلقوں کے نزدیک کچھ عرصے سے شادی اور تقریبات کے موقع پر خاص نوعیت کے بموں کا استعمال کیا جاتا ہے جس کی آواز فائرنگ کی آواز سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل یمن کے صوبے ریمہ میں ایک نوجوان اپنے دوست کی شادی کے موقع پر مذکورہ بم کا استعمال کرتے ہوئے اپنی جان گنوا بیٹھا جب کہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ واقعے سے علاقہ مکینوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔