چینی ترقی کا راز : شہریوں کے لیے ہر ماہ سینکڑوں ارب ڈالر کے قرضے

چینی ترقی کا راز : شہریوں کے لیے ہر ماہ سینکڑوں ارب ڈالر کے قرضے

بیجنگ:چینی معیشت میں ترقی کی متاثر کن شرح کا ایک راز کھربوں یوآن مالیت کے وہ ریکارڈ حد تک زیادہ قرضے بھی ہیں، جو چینی بینک ہر ماہ عام شہریوں کو دیتے ہیں۔ جون کے مہینے میں ان قرضوں کی مالیت ڈیڑھ کھرب یوآن سے زیادہ رہی۔


چین کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اس سال مئی میں 779 ارب ڈالر تھے، جو جون میں بڑھ کر 793 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئے،میڈیارپورٹس کے مطابق اس سال صرف جون کے مہینے میں چینی بینکوں نے ملکی صارفین کو مجموعی طور پر 1.55 کھرب یوآن کے قرضے جاری کیےَجو اپنی مالیت میں 227 ارب امریکی ڈالر کے برابر بنتے تھے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق مختلف تجارتی بینکوں کی طرف سے عام چینی شہریوں کو دیے جانے والے ان قرضوں کی مالیت جون کے مہینے میں ماہرین کے اندازوں سے کہیں زیادہ رہی۔ اس سال مئی میں چینی بینکوں نے ملکی صارفین کو مجموعی طور پر 1.11 کھرب یوآن کے قرضے جاری کیے تھے۔ماہرین کا خیال تھا کہ جون میں ان قرضوں کی مالیت بڑھ کر 1.2 کھرب یوآن ہو جائے گی۔

لیکن گزشتہ ماہ کے اب سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ان ماہانہ قرضوں کی مالیت بہت زیادہ ہو کر 1.55 کھرب یوآن ہو گئی، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس طرح چین کی داخلی منڈی کو سرمائے کی فراہمی میں بھی ماہانہ بنیادوں پر 9.4 فیصد کی شرح سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔زیادہ قرضے لینے کے نتیجے میں جون میں چینی صارفین کے ذمے مختلف بینکوں کی واجب الادا رقوم کی مالیت بھی ایک سال پہلے کے مقابلے میں 12.9 فیصد زیادہ ہو گئی حالانکہ ماہرین کے اندازے اس سے کم تھے۔

زیادہ رسد کے لیے پیداوار بھی زیادہ کی جائے گی اور یوں اقتصادی گرم بازاری دیکھنے میں آئے گی، جس کا براہ راست نتیجہ معاشی نمو میں اضافہ ہوتا ہے۔بیجنگ حکومت نے اپنے اقتصادی ترقی کے سالانہ ہدف کو پورا کرنے کے لیے ملکی منڈی کو تحریک دینے کا جو فیصلہ کیا، اس کے تحت صارفین کے لیے ایسے نئے قرضوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہےَ

جو گرم بازاری کی وجہ بنتے ہیں۔چینی بینکوں کی طرف سے ملکی صارفین کو ہر مہینے سینکڑوں ارب ڈالر کے برابر نئے قرضے جاری کرنے کا جو رجحان اس سال اب تک جاری ہے، وہ گزشتہ برس بھی دیکھنے میں آیا تھا۔ 2016ءمیں چینی بینکوں نے شہریوں کو پورے سال کے دوران جو نئے قرضے دیے تھے، ان کی کل مالیت قریب 13 کھرب یوآن یا 1.9 کھرب امریکی ڈالر بنتی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔