سربرینیکا نسل کشی, 22 سال گذرنے کے باوجود مقتولین کا سراغ نہیں لگا یا جا سکا

سربرینیکا نسل کشی, 22 سال گذرنے کے باوجود مقتولین کا سراغ نہیں لگا یا جا سکا

انقرہ : سربرینیکا نسل کشی میں ہلاک ہونے والوں کی سالانہ یاد منائی جا رہی ہے۔ یورپ میں دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد رونما ہونے والے عظیم ترین انسانی المیہ کہ جس میں 8 ہزار سے زائد بوسنیائی شہریوں کا خونخوار طریقے سے قتل کیا گیا، سربرینیکا نسل کشی کا نشانہ بننے والے مزید 71 افراد کی شناخت کا کام مکمل ہو گیا ہے۔


1995ءمیں پیش آنے والے اس ا لمیہ میں قتل کیے جانے والے ان 71 افراد کے لیے دعا کی جائے گی اور بعد ازاں  ان کی  باقیات کی تدفین ہو گی۔ پوتو چاری میموریل قبرستان میں منعقد ہونے والی رسومات میں ترکی کی نمائندگی نائب وزیر اعظم نعمان قرتلمش کر رہے ہیں، جبکہ ترکی ریڈیو ٹیلی ویژن کارپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل ابراہیم ایرین بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

یاد رہے کہ 11 جولائی 1995 ء رات کو ملادچ کی زیر کمان  سرب دستوں نے سربرینیکا پر قبضہ کر لیا تھا، اقوام متحدہ کی سرپرستی میں تعینات ڈچ فوجیوں کے پاس پناہ لینے والے بوسنیائی شہریوں کو سربوں کے حوالے کیے جانے کے بعد نسل کشی کا المیہ پیش آیا تھا۔نسل کشی کے بعد 22 سال کا عرصہ بیتنے کے باوجود قتل کردہ ایک ہزار سے زائد افراد کی نعشوں کا تا حال سراغ نہیں لگایا جا سکا -