انکوائری ٹیم جے آئی ٹی کم اور جن آئی ٹی زیادہ تھی، رانا ثنااللہ

انکوائری ٹیم جے آئی ٹی کم اور جن آئی ٹی زیادہ تھی، رانا ثنااللہ

لاہور: جے آئی ٹی نے 60 سال کا سفر 60 دن میں طے کر لیا، کسی جگہ جائے بغیر پوری دنیا میں چلی گئی، جہاں سے کسی کو ڈاکومنٹ نہ ملا جے آئی ٹی وہاں سے بھی نکال کر لے آئی۔ کہیں تو لیٹر بعد میں لکھا گیا، ریکارڈ پہلے سے تیار تھا ، یہ جے آئی ٹی نہیں بلکہ اسے جن آئی ٹی کہا جائے تو بہتر ہے۔


انہوں نے مطالبہ کیا کہ جے آئی ٹی کے حوالے سے مخدوم جاوید ہاشمی نے جو کچھ کہا ہے سپریم کورٹ انہیں طلب کرے اور وہ سچے ہیں تو حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اگر جھوٹے ہیں تو انہیں سزا دی جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی کیفے ٹیریا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کو جس طرح ٹیکنیکل طریقے سے کہا گیا کہ وہ صادق اور امین نہیں، اگر نواز شریف صادق اور امین نہیں ہیں تو قومی و چاروں صوبائی اسمبلیوں میں سے کوئی بھی ایم این اے یا ایم پی اے صادق اور امین نہیں ہے ۔ پھر ان سب کو نا اہل قرار دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہر امیدوار قومی و صوبائی اسمبلی الیکشن کمیشن کو حلف دیتا ہے کہ اس نے انتخابی مہم میں دس لاکھ روپے سے زائد خرچ نہیں کئے کیا یہ سچ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ تعصب اور مفروضوں پر مبنی من گھڑت رپورٹ ہے جسے ہم یکسر مسترد کرتے ہیں اور سپریم کورٹ سے بھی استدعا ہے کہ اس رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس قدر طاقتور جن آئی ٹی نے 60 سال کا سفرصرف 60 دنوں میں طے کر لیا ۔دنیا میں کسی ملک میں جائے بغیر اسے ہر جگہ سے رپورٹس مل گئیں جہاں سے حکومتیں بھی معلومات لینے میں ناکام رہتی ہیں ۔ بعض جگہ تو لیٹر بعد میں لکھا گیا جبکہ ریکارڈ پہلے سے موجود تھا۔

انہوں نے کہا کہ جن آئی ٹی کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ 27 سال پہلے ایل ڈی اے کے پلاٹ کیسے بیچے گئے ، جاتی عمرہ کی زمین کس طرح خریدی گئی اور سڑک کس طرح بنی۔ سپریم کورٹ کے 13 سوالات کے جوابات عمران خان کے چار سال پہلے دھرنا پر مشتمل ہیں ان کی کنٹینر پر کھڑے ہو کر ہرروز کی جانے والی تقریروں کو جمع کر لیا جائے تو اس کا خلاصہ جے آئی ٹی کی رپورٹ بنے گی۔ 

انہوں نے کہا   کہ جے آئی ٹی ورجن آئی لینڈ سمیت ہر جگہ سے ریکارڈ لے آئی۔ میاں نواز شریف گزشتہ 36 سال سے پہلے وزیر اعلی اور پھر وزیر اعظم جیسے منصب پر فائز   رہے ہیں ۔ انہوں نے اربوں ، کھربوں روپے کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جن میں سے آج تک  کرپشن سامنے نہیں لائی جاسکی اور نہ ہی کوئی ایسا الزام لگا ہے۔ شریف خاندان 1960 ء میں بھی ارب پتی تھا اوراگر آج ان کی اولاد ارب پتی ہے تو اس میں حیرانگی کی کیا بات ہے ۔  مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ جج ، جرنیل اور سیاستدانوں سمیت کوئی بھی صادق اورامین نہیں ہے ۔ صادق اور امین صرف نبی کریم ﷺ ہیں۔ اس کے علاوہ عمران خان کے حوالے سے جو انہوں نے جوڈیشل مارشل لاء کی بات کی وہ تمام حقائق عوام کے سامنے لانے کے لئے سپریم کورٹ مخدوم جاوید ہاشمی کو طلب کرے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دائیں اور بائیں جو اے ٹی ایم مشینیں کھڑی ہیں اور جن کی جیبوں میں عمران خان کا ہاتھ ہے ۔ 1990ء میں جہانگیر ترین لیکچرراور علیم خان بنک ملازم تھے۔ وہ دونوں 2005ء تک اربوں پتی کیسے بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن آئین اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتی ہے اور ہم جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں ۔ سردار ذوالفقار علی خان کے اس دعوے پر کہ مسلم لیگ ن کے 80 ارکان قومی اسمبلی پارٹی کو چھوڑنے کو تیار ہیں، رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ سردار صاحب ان میں سے صرف دو کے ہی نام بتا دیں اگلے دس منٹ میں ان کی طرف سے تردید آجائے گی۔

انہوں نے کہا  کہ مسلم لیگ ن جے آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے اپنا موقف سپریم کورٹ کے سامنے رکھے گی اور انہوں نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے گی اس کا احترام کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی لیکن آج تک قوم نے انہیں قاتل تسلیم نہیں کیا جبکہ میاں نواز شریف پر بھی ہائی جیکنگ کا کیس بنایا گیا جسے قوم نے مسترد کر دیا اور وہ تیسری بار وزیراعظم بنے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا کیس دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہے جہاں استغاثہ کی جانب سے نامزد  136 ملزمان کیس بھگت رہے ہیں اور اس حوالے سے 58 گواہان کے بیا ن قلمبند کئے گئے۔

نیوویب ڈیسک< News Source