اردو حرفِ محبت ہے!

Dr Tehsin Feraqi, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے کہ ہمارا قومی مزاج مرحوم منیر نیازی کی اس مشہور نظم سے کس قدر ملتا جلتا ہے جس کا عنوان ہے " ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ": ہمیشہ دیرکر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں / ضروری بات کرنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو/اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو/ ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں / مدد کرنی ہواس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو/ بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو/ ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں / بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو/ کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو/ ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں۔ میں سوچتا ہوں کہ منیر نیازی کی طرح ہم سے بھی کوئی کام وقت پر بن نہیں آتا۔ جب سر پہ پڑتی ہے تو ہم نیم دلانہ اور عاجلانہ کچھ کر گزرنے کی ہمت کرتے ہیں۔ دروازے پر بارات آچکتی ہے تو ہمیں اچانک یاد آتا ہے کہ لڑکی کے تو کان ہی نہیں چِھدے! پاکستان کی چوہتر سالہ تاریخ پر نگاہ ڈال لیجیے، عبرت اور عاقبت نااندیشی کی متعدد دکھ بھری مثالیں آپ کے حافظے کے ورق الٹنا شروع کر دیں گی۔ صرف قومی زبان اردو ہی کو لے لیجیے۔ پون صدی گزار لینے اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کے باوجود ہمیں اب تک اس کے کامل نفاذ کا خیال نہیں آیا اور ہم اسے ٹالتے جا نے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ ہم نے اردو زبان کے باب میں اپنے اکابر کے اقوال اور مساعی کو ہمیشہ طاقِ نسیاں پر رکھا۔ کیا اقبال کا یہ ارشاد بھلا دینے کے لائق تھا کہ میری لسانی عصبیت میری دینی عصبیت سے کسی طور کم نہیں۔ اقبال کی طرح قائد اعظم محمد علی جناح بھی عالمی اور مسلم تاریخ، اس کی کروٹوں اور اپنے قومی تشخص کا گہرا شعور رکھتے تھے۔ ۱۹۳۷ء میں جب جواہر لعل نہرو نے کہا کہ ہندوستان میں صرف دو فریق ہیں - کانگریس اور حکومتِ برطانیہ، تو قائداعظم نے معاً اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ایک تیسرا فریق بھی ہے یعنی ہندوستانی مسلمان۔ اْسی زمانے میں مسلم لیگ نے اپنی لسانی حکمت عملی بھی طے کر لی تھی اور اس کے منشور میں یہ بات شامل تھی کہ حصولِ آزادی کے بعد اردو پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان ہو گی۔ اس ضمن میں قائداعظم نے مولوی عبدالحق کو بھی اپنا ہم آواز بنایا اور طرفین میں ربط ضبط بڑھنے لگا۔ انجمن ترقیِ اردو دہلی اور مسلم لیگ کی ہمنوائی میں اضافہ ہوتا گیا، مولوی عبدالحق کی صرف اْس مساعی ہی کو پیش نظر رکھیے جس کے نتیجے میں وہ اردو کے نایاب قلمی نسخوں اور نادر کتابوں کو بچانے اور پاکستان لے آنے میں کامیاب رہے اور تمام عمر گیسوئے اردو کو سنوارتے سجاتے رہے۔ 

اکتوبر ۱۹۳۷ ء میں لکھنؤ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس محمد علی جناح کے زیرِ صدارت ہوا جس میں راجہ صاحب محمود آباد کی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی۔ اس قرارداد کا خلاصہ یہ تھا کہ اردو کی جگہ ہندی کو رواج دینے کی کوشش اس کے اساسی ڈھانچے کو بگاڑ کر رکھ دے گی۔ اسی قرارداد میں برعظیم کے تمام اردو بولنے والوں کو ترغیب دی گئی تھی کہ وہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے سارے اداروں اور دفتروں میں اردو کے حقوق کے تحفظ کی کوشش کریں۔ 

قائداعظم کو اس امر کا حق الیقین تھا کہ برعظیم میں مسلمان ایک منفرد قوم ہیں، اقلیت نہیں اور و ہ اپنا الگ تصور حقیقت اور تہذیبی و ثقافتی مزاج رکھتے ہیں۔ اس حقیقت کا اظہار انہوں نے بڑے تواتر سے کیا۔ ۱۷/۱۸ اپریل ۱۹۳۸ء کو کلکتہ میں ہونے 

والے مسلم لیگ کے اجلاس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ کانگریسی ہندی کو لازمی مضمون کی حیثیت سے اپنی تعلیمی پالیسی کا حصہ بنا رہے ہیں جس کا اثر اگر کلّی طور پر نہیں تولازمی طور پر اردو کی ترقی و ترویج کے لیے تباہ کن ہوگا۔ اس سے بھی زیادہ بُرا یہ امر ہوگا کہ ہندی اپنے سنسکرت ادب اور فلسفے کے ہمراہ مسلمان طالب علموں پر بھی مسلط کر دی جائے گی۔ حقیقتاً یہی ہو ا اورتقسیم برعظیم کے فوراً بعد مسلم تشخص کو مٹانے کا کام جس تیزی سے شروع ہوا، وہ اس وقت اپنی بدترین صورت میں مودی حکومت کے دور میں دیکھا جاسکتا ہے۔ راقم جب ۲۰۰۰ء میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی گیا تو ایک قدوائی دوست نے ایک دن کھانے پر مدعو کیا اور دورانِ گفتگو بڑے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ ہمارے بچوں کو پہلی جماعت ہی سے تین لازمی زبانیں پڑھنا پڑھتی ہیں: ہندی، سنسکرت اور انگریزی۔ بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جناح صاحب کی پیش گوئی کس قدر درست نکلی۔ ایلیٹ نے ایک جگہ کلچر کی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ کلچر ایک مخصوص طرزِ فکر، طرزِ احساس اور طرزِ عمل کا نام ہے۔ اس کی ترسیل اور استقلال وقرار کے لیے زبان سے زیادہ موثر کوئی عنصر نہیں۔ قائداعظم مذکورہ سچائی کا ایلیٹ سے بہت پہلے، بڑا توانا شعور رکھتے تھے۔ وہ اس امر سے بھی بخوبی آگاہ تھے کہ برعظیم میں بولی جانے والی زبانوں میں اردو واحد زبان ہے جو پشاور سے راس کماری تک سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے بجا طور پر اسی ہمہ گیر زبان کو پاکستان کی قومی زبان کے طور پر نہ صرف چنا بلکہ اس پر اصرار بھی کیا۔

 یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری جسے شروع سے بڑے تسلسل سے پھیلایا گیا ہے اور کم نظر کنویں کے مینڈک، علاقہ پرست اور بدنیت عناصر اب تک اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ میری مراد قائداعظم کی ۲۱ مارچ ۱۹۴۸ ء کی اس تقریر سے ہے جو انھوں نے ڈھاکہ جا کر کی۔ اس تقریر کا پس منظر یہ تھا کہ مشرقی پاکستان کے بعض تنگ نظر نیشنلسٹ، ہندو نواز عناصر اور اشتراکی کوچہ گرد باہم مل کر ایک نوزائیدہ ملک کو لسانی ہوا دے کر اور بنگالی کے بطور قومی زبان اصرار کے ذریعے کمزور کرنا چاہتے تھے۔ مذکورہ تقریر میں قائداعظم نے نہ صرف اردو کے واحد قومی زبان ہونے پر اصرار کیا بلکہ مشرقی پاکستان کے صوبے کو بنگلہ زبان کے صوبائی سطح پر اختیار کرنے کے حق کا بھی اعلان کیا۔ ان کا موقف یہ تھا:

"میں آپ کو صاف صاف بتا دوں کہ جہاں تک بنگالی زبان کا تعلق ہے، اس افواہ میں کوئی سچائی نہیں کہ آپ کی زندگی پر کوئی پریشان کن اثر مرتب ہونے والا ہے۔ بالآخر اس کا فیصلہ اس صوبے کے لوگوں ہی کو کرنا ہے کہ وہ یہ طے کریں کہ اس صوبے کی زبان کیا ہوگی۔ لیکن یہ بات میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ہوگی۔ جو شخص آ پ کو گمراہ کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ کوئی کام انجام دے سکتی ہے۔ دوسرے ملکوں کی تاریخ اس ضمن میں گواہی دے گی"۔

قائداعظم کی مذکورہ تقریر کے دو کلیدی جملے تھے، ایک یہ کہ انہوں نے مشرقی صوبے کو اپنے کاروبارِ حیات کے لیے اپنی صوبائی زبان کو اختیار کرنے کا حق دیا اور دوسرے اردو کو واحد قومی زبان قرار دیا کہ اس کے بغیر قوم متحد نہیں رہ سکتی۔ اب ذرا غور کیا جائے کہ آج اردو کے دوش بدوش پانچ چھ دیگر پاکستانی زبانوں کو قومی زبان بنانے کا شوشہ چھوڑنے والے دراصل اسی عاقبت نااندیش اور تخریب کار قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جس نے بدقسمتی سے تخلیقِ پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد ہمارے مشرقی بازو میں اپنے زہر آلود پر پھیلا دیے تھے۔ مشرقی پاکستان کے لسانی تناظر سے آگاہ لوگ اس امر کی تصدیق کریں گے کہ اردو ہی وہ زبان تھی اور ہے جو اب بھی بنگلہ دیش کے اطراف و اکناف میں بہ سہولت سمجھی جاتی ہے، بالکل اسی طرح جس طرح یہ پاکستان کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک بڑی آسانی سے قابلِ فہم اور لائقِ ابلاغ ہے۔ 

 پنجاب سیکریٹریٹ لاہور میں ۱۹۴۹ء میں نفاذِ اردو کی سمت ایک اہم قدم کے طور پر "مجلس زبان دفتری" قائم کی گئی تھی جو ہزاروں اصطلاحات اور مراسلات کو اردو میں اس خوبی سے ڈھال چکی ہے کہ اردو کی سرکاری دفاتر میں ترویج میں کوئی مشکل حائل نہیں رہی۔ اسی طرح بعض یونیورسٹیوں میں قائم تالیف و ترجمہ کے ادارے اس ضمن میں غیر معمولی پیشرفت کر چکے ہیں۔ پھر اردو کے سرکاری زبان کے طور پر نفاذ میں کیا چیز مانع ہے؟ اردو حرفِ محبت ہے، شمیمِ صبح ہے، شبنم کی طرح لطیف اور تازہ پانی کی طرح حیات بخش ہے۔ پاکستان کے تما م صوبوں اور علاقوں کی باہمی وحدت کی ضامن ہے۔ فتور صرف ان کی نیت میں ہے جو مغربی استعمار کے بے دام غلام ہیں اور اردو کے نفاذ کے رستے میں حائل ہیں:

 بیاں میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے 

ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہیے