قطر کے خلاف قانونی کاروائی بھی ہوسکتی ہے، ماہرین

ابوظہبی : قا نونی ماہرین کے مطابق قطر9/11حملوںکے بعد بین الاقوامی سیکیورٹی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد1373کی تعمیل میں ناکامی اور اسکی خلاف ورزی کے پیش نظر قانونی کاروائی کا سامنا کر سکتا ہے۔

قطر کے خلاف قانونی کاروائی بھی ہوسکتی ہے، ماہرین

ابوظہبی : قا نونی ماہرین کے مطابق قطر9/11حملوںکے بعد بین الاقوامی سیکیورٹی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد1373کی تعمیل میں ناکامی اور اسکی خلاف ورزی کے پیش نظر قانونی کاروائی کا سامنا کر سکتا ہے۔


قرارداد 1373کے مطابق تمام ممالک دہشتگردی کے خلاف مل کر جدوجہد کریں گے، دہشتگردوں کی مالی امداد پر کڑی پابندی اور نظررکھی جائےگی اور انکی مدد کرنے والے کسی بھی عنصر کیخلاف بغیر کسی امتیاز کے سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔جیسا کہ سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک نے قطر پر داعش اور اخوان المسلمین جیسی دہشتگرد تنظیموں کی مالی امداد کرنے کا الزام لگایا ہے تو ممکن ہے کہ قطر کو ان الزامات کے پیش نظر بین الاقوامی سیکیورٹی کونسل کی طرف سے پابندیوں کا سامناکرنا پڑے۔

امارات کی یونیورسٹی کے ڈاکٹرمحمد حسن القاسم کاکہنا ہے کہ بین الاقوامی سیکیورٹی کونسل کے ممبران کونسل سے مطالبہ کر سکتے کہ وہ ایک نئی قرارداد جاری کر کے قطر پر پابندیاں عائدکرے کیونکہ قطر دہشتگردوں کیخلاف ہر ممکنہ کاروائی کرنے اورقرارداد1373کی پاسداری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ڈاکٹر قاسم کا کہنا ہے کہ قطر کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھی لایا جا سکتا ہے اور یہ دعوی کیا جا سکتا ہے کہ قطر دعا لمی سطح پر ہشتگردوں کی مالی امداد کی روک تھام میں ناکام رہاہے۔

جبکہ دوسری طرف امارات کے وزیر خارجہ انور گرگش کا کہنا ہے کہ قطر کیخلاف اب مزید اقداما ت ضروری نہیں ہیںاور نہ ہی قطر کیساتھ دہشتگردوں کی مالی امداد بارے مذاکرات کی اب کوئی وجہ باقی ہے۔مصر نے بھی بین الاقوامی سیکیورٹی کونسل سے درخواست کی ہے کہ وہ ان رپورٹس کی تحقیق کرے جن میں یہ کہا گیاہے کہ قطر نے عراق میں دہشتگرد گروپ کو ایک لاکھ ڈالر ادا کیے۔دوسری طرف لیبیا نے بھی قطر کیخلاف بین الاقوامی عدالت انصاف میں جانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے.

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔