عدالت نے شیخ رشید کو اہل قرار دے دیا

عدالت نے شیخ رشید کو اہل قرار دے دیا

عدالت نے شیخ رشید کو اہل قرار دے دیا

اسلام آباد:تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ نےعوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید  کو اثاثہ کیس میں اہل قرار دے دیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق نااہلی فیصلے کے بعد شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اللہ تعالیٰ نے آج مجھے عزت دی ہے ، میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا، میں راولپنڈی کا ہوں اور ساری دولت راولپنڈی میں ہے ۔اگر آج میرے خلاف فیصلہ آتا تو میں قبول کرلیتا ،میں نواز شریف نہیں ہوں ، انہوں نے مزید کہا کہ " میاں برادران میں آرہاہوں "۔ جو میری سیاسی موت دیکھ رہے تھے ان کی سیاسی زندگی دیکھ رہاہوں ،میں ان چوروں کو لٹکاؤن گا ۔

مزید پڑھیں :- عراق، شام پر امریکی فضائی حملوں میں 300 گنا اضافہ

شیخ رشید کی نااہلی کے خلاف درخواست ن لیگی رہنما شکیل اعوان نے دائر کی تھی جس میں ان پر 2013 کے انتخابات کے کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ن لیگی رہنما کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی تھی۔سپریم کورٹ نے 20 مارچ کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو کہ آج سنایاگیا۔

یہ بھی پڑھیں :- کینیڈا کو ٹروڈو کی تنقید کی بھاری قیمت چکانا ہوگی، ٹرمپ

 شیخ رشید نے عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہناتھا کہ "مجھے سب سے منع کیا تھا کہ میں عدالت نہ جاؤں لیکن میں فیصلہ سننے کے لیے آگیا ہوں "۔ فیصؒلہ جو بھی ہوا ہم اس قبول کریں گے "۔

 یہ بھی پڑھیں :- ٹرمپ کی اُن سے ملاقات :شما لی کوریا ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کے لیے راضی ہو گیا

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما شکیل اعوان نے شیخ رشید کی نااہلی کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں انہوں نے مؤقف اپنایا کہ شیخ رشید نے کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثے چھپائے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ شیخ رشید نے گھر کی قیمت ایک کروڑ 2 لاکھ ظاہر کی جب کہ گھر کی بکنگ 4 کروڑ 80 لاکھ سے شروع کی گئی تھی۔درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیئے تھے کہ فتح جنگ کے موضع رامہ میں زمین زیادہ لیکن کاغذات میں کم ظاہر کی گئی ہے۔ریکارڈ کے مطابق شیخ رشید کی زمین ایک ہزار 81 کنال ہے لیکن انہوں نے کاغذات نامزدگی میں 968 کنال اور 13 مرلہ ظاہر کی ہے۔