کینیڈا ون ٹی وی ،جھیلیں اور یادیں

کینیڈا ون ٹی وی ،جھیلیں اور یادیں

قارئین،کینیڈا سے واپسی ہو چکی مگر جیٹ لیگ ابھی جاری ہے، دس بارہ گھنٹے کے مختلف ٹائم زون سے واپس آئیں تو کچھ روز بے وقت کی نیند اور جاگنا،اس کے اثرات ہوتے ہیں ،پاکستان کے حالات کا جائزہ لے رہا ہوں اور کینیڈا کی یادیں تازہ کر رہا ہوں، وہاں دوستوں اور پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے جو عزت ملی اس پر اللہ کا کروڑ بار شکر ،جھیلوں کے دیس کینیڈا کے پاکستانی بڑی ہی محبت والے لوگ ہیں،بہت سے دوست ناراض ہیں ، ان کی دعوت قبول نہ کر سکا یا ان کے کھانوں اور پروگراموں میں نہ پہنچ سکا،ان سے معذرت ،اگلے ٹور میں ان کے پاس حاضری ہو گی۔کینیڈا ون ٹی وی اور بدر منیر چودھری ،ٹورنٹو میں پاکستان کی پہچان بن چکے ہیں۔پاکستان آنے والوں نے جس طرح اگر لاہور نہیں دیکھا تو کچھ نہیں دیکھا،اگر کینیڈا جانے والوں نے نیاگرا فالز اور سی این ٹاور کی سیر نہیں کی تو انہوں نے کینیڈا نہیں دیکھا اور میرا یہ ماننا ہے کہ جن پاکستانیوں نے ٹورنٹو کینیڈا کا وزٹ کیا اور وہ کینیڈا ون ٹی وی اور اس کے روح رواں بدر منیر چودھری سے نہ ملے تو انہوں نے پاکستانیوں کا ٹورنٹو نہیں دیکھا۔کینیڈا ون ٹی وی اس وقت ٹورنٹو میں پاکستان کا اصل سفارت خانہ اور بدر منیر چودھری وو کام کر رہے ہیں جو ایک متحرک پاکستانی سفیر کرتا ہے ، گزشتہ دنوں کینیڈا کے سب سے بڑے صوبے انٹاریو کی اسمبلی کے الیکشن ہوئے تو بدر منیر چودھری نے وہاں پاکستانی کینیڈین امیدواروں کی جس طرح بلا تخصیص پارٹی مہم چلائی وہ امیزنگ تھی۔پاکستانی کمیونٹی کو متحرک کرنے میں بھی انہوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی ،ان کی ان کوششوں پر ٹورنٹو کی پاکستانی کمیو نٹی انکی معترف ہے۔ 

میرے پاکستان آنے سے ایک روز پہلے انہوں نے کینیڈا ون ٹی وی میں ایک بہت شاندار تقریب کا اہتمام کیا جس میں مجھ سمیت پاکستان کے نامور صحافی خاور نعیم ہاشمی ،پی آئی اے لاہور کے ڈسٹرکٹ مینجر ڈاکٹر مقدم اور نامور پاکستانی گلوکارامانت علی مہمانان خصوصی کے طور پر شامل تھے۔اس تقریب میں پاکستان کے ڈپٹی قونصل جنرل یاسر اقبال بٹ،ٹورنٹو سے ارکان پارلیمنٹ ،صحافی اور پاکستانی کینیڈین کمیونٹی کے سرکردہ لوگ شامل تھے۔

لاہور واپس پہنچا ہوں تو پنجاب کی بیوروکریسی کے حوالے سے بڑی مثبت خبریں ملی ہیں،وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری بیرسٹر نبیل اعوان ایک اچھی بیوروکریٹک ٹیم بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں جس کا ذکر اگلے کالم میں کروں گا ،ابھی تو کچھ یادیں کینیڈا کی جھیلوں کے حوالے سے ،مئی سے اکتوبر تک ٹورنٹو کے گردونواح میں بڑا خوبصورت موسم ہوتا ہے اور اکثر لوگ ویک اینڈز یہاں جھیلوں کے کناروں پر بنے ہٹس یا کاٹیجز میں گزارتے ہیں۔ٹورنٹو کی مسکوکا جھیل کے کنارے دو ہفتے قبل رانا طارق محمود،عرفان بھنگو،مطاہر گورایہ،احمد گورایہ اور فیملیز کے ساتھ گزارے چند روز بڑے خوبصورت اور نہ بھولنے والے ہیں۔

کینیڈا قدرتی وسائل کے حوالے سے ایک خود کفیل ملک ہے،میٹھے اور شفاف پانی کے سب سے زیادہ ذخائر اس کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں،ایک رپورٹ کے مطابق اس جنت ارضی کے طول و عرض میں چھ ہزار سے زائد چھوٹی بڑی میٹھے پانی کی وہ جھیلیں ہیں جو تین کلومیٹر یا اس سے بڑی ہیں ،جہاں تک چھوٹی چھوٹی جھیلوں کا تعلق ہے ،ان کا شمار ہی ممکن نہیں ہے۔ 

کینیڈا اور امریکہ کی سرحد کے قریب واقع میٹھے پانی کی پانچ بڑی جھیلیں ہیں یہ روئے زمین پر تازہ اور میٹھے پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ ہیں،دریائے سینٹ لارنس کو ملا کر یہ جھیلیں دنیا کا سب سے بڑا میٹھے پانی کا نظام تشکیل دیتی ہیں،اس ذخیرہ آب کو ماہرین زمین پر سمندر بھی قرار دیتے ہیں،ان بڑی جھیلوں میں سب سے بڑی جھیل سپیرئیر کہلاتی ہے،جھیل مشی گن رقبے کے لحاظ سے دوسری بڑی جھیل ہے،بیورون حجم کے اعتبار سے تیسری اور رقبے کے حوالے سے دوسری سب سے بڑی جھیل ہے،اونٹاریو رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی مگر حجم کے اعتبار سے دوسری سب سے بڑی جھیل ہے،جھیل بیورون اور ایری کے درمیان سینٹ کلئیر نامی جھیل اس نظام کا حصہ ہے،اس نظام میں ان جھیلوں کو ملانے والے دریا بھی شامل ہیں،سینٹ میرینز بیورون اور سپیرئیر کو ملاتا ہے،سینٹ کلئیر اور ایری جھیل کو ملانے والا دریائے ڈیٹرائٹ اور جھیل ایری اور اونٹاریو کے درمیان دریائے نیاگرا اور نیاگرا آبشار ان میں شامل ہیں۔

 پوری دنیا کی ساٹھ فیصد میٹھے پانی کی جھیلیں کینیڈا میں پھیلی ہوئی ہیں، جن کا رقبہ پاکستان کے مجموعی رقبہ سے زیادہ ہے،پانچ سو برس پرانی تاریخ کے حامل اس ملک کے 35فیصد رقبہ پر سر سبز و شاداب درخت ہیں،کرہ ارض پر سعودی عرب کے بعد تیل کے دوسرے بڑے ذخائر بھی اسی سرزمین پر واقع ہیں،یہاں کی زمین یورینیم، ہیرے،سونے اور چاندی کی معدنیات سے لبریز ہے، زیر زمین ذخائر کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ کینیڈا صدیوں کسی ملک کا محتاج نہ ہو گا،کینیڈا کے ساحل کی لمبائی دو لاکھ43ہزار977کلو میٹر ہے جو دنیا کی سب سے بڑی کوسٹ لائن ہے،ملک میں آٹھ ہزار کلو میٹر سڑکوں کا جال پھیلا ہے،گریٹ سلیو جھیل بھی دنیا کی مشہور جھیلوں میں سے ایک ہے،یہ شمالی امریکہ کی سب سے گہری جھیل ہے اور کینیڈا میں واقع ہے،اس کی گہرائی 614میٹر ہے،یہ جھیل سال میں آٹھ ماہ منجمد رہتی ہے،اسے عظیم غلام جھیل کا نام ماضی کی ثقافتوں اورآباد کاروں کی وجہ سے ملا،دنیا کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل بھی کینیڈا اور امریکہ میں منقسم ہے،گریٹ لیکس کے نام سے یہ جھیل دراصل آپس میں جڑی پانچ جھیلوں کے مجموعے کو کہتے ہیں جن کا ابتداء میں ذکر کیا گیا،اسے میٹھے پانی کا سمندر بھی کہا جاتا ہے۔

کینیڈا میں واقع مینی کواگن جھیل اپنی بوالعجبی کے باعث معروف ہے،اس جھیل کے وسط میں ایک سفید دائرہ ہے جو دور سے دکھائی پڑتا ہے،کہتے ہیں 200ملین سال قبل ایک سیارہ اس جھیل میں گرا جس سے یہ دائرہ وجود میں آیا اورآج تک قائم ہے،گرنے والے سیارے کا قطر3.1میل بتایا جاتا ہے،جھیل کا رقبہ 750مربع میل ہے،اس دائرے کے گرد شعاعوں جیسی لکیروہیں جس سے دور سے دیکھنے پر سورج کا عکس دکھائی دیتا ہے،میڈیسن نامی ایک جھیل جسو موسم سرما میں غائب ہو جاتی ہے،ویسے اس جھیل میں کوئی خاص بات نہیں لیکن اس جھیل میں بڑے بڑے سوراخ ہیں موسم سرما میں جھیل کا پانی ان غاروں میں سما جاتا ہے،ان زیر آب غاروں تک رسائی بھی ممکن نہیں،یہاں کی مقامی آبادی اسے جادوئی جھیل کہتے ہیں،موسم سرما میں جھیل کا صرف گڑھا دکھائی دیتا ہے۔ کینیڈا کے ساحل بھی بعض مقامات پر رنگ بدلتے ہیں تو آنکھوں کو خیرہ کر دیتے ب ہیں،کینڈل لیک صوبہ کے ساحل کی ریت کا رنگ کاسنی ہے،جو2018ء میں دریافت ہوا ،دور دراز واقع اس سنسان ساحل پر کاسنی رنگ کی ریت کو دیکھنے کیلئے دور دراز سے سیاح کھنچے چلے آتے ہیں،اس ریت کو دیکھنے سے محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے بڑے سے تحفہ پر رنگین ربن باندھا ہو،ریت کی رنگت موسم اور لہروں کیساتھ تبدیل ہوتی ہے،ساحل کے گردو نواح میں چھوٹے چھوٹے پانی کے ذخائر میں بھی رنگین ریت دکھائی دیتی ہے۔

مصنف کے بارے میں