وقت کے پابند افراد میں پائی جانے والی انتہائی موثر عادات!

لاہور: کسی بھی کامیاب انسان کی کامیابی کی بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے روزمرہ کے معاملات میں وقت کا پابند ہوتا ہے، اس شخص کے لئے وقت سب سے قیمتی دولت ہے، ایسی دولت جو ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو واپس نہیں آسکتی۔ اس کے مقا بلے میں وہ تمام افراد جو اپنی زندگی میں وقت کی قدر نہیں کرتے اور تاخیر کو اپنی زندگی کا معمول بناتے ہوئے اپنی ناکامیوں کا روز روتے ہیں۔

وقت کے پابند افراد میں پائی جانے والی انتہائی موثر عادات!

لاہور: کسی بھی کامیاب انسان کی کامیابی کی بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے روزمرہ کے معاملات میں وقت کا پابند ہوتا ہے، اس شخص کے لئے وقت سب سے قیمتی دولت ہے، ایسی دولت جو ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو واپس نہیں آسکتی۔ اس کے مقا بلے میں وہ تمام افراد جو اپنی زندگی میں وقت کی قدر نہیں کرتے اور تاخیر کو اپنی زندگی کا معمول بناتے ہوئے اپنی ناکامیوں کا روز روتے ہیں۔


آج یہاں ایسی چندعادتوں سے روشناس کروایا جائے گا جو وقت کے پابند افراد میں مشترکہ طور پر پائی جاتی ہیں:

گھڑی کے ساتھ ذہن کا الارم سیٹ کرنا:

جو لوگ وقت کے پابند ہوتے ہیں وہ گھڑی کے ساتھ ساتھ لاشعوری طور پر ذہن میں بھی ایک الارم سیٹ کرلیتے ہیں، سائنسی طور پر ہمارے دماغ جسمانی گھڑی پر نظر رکھتے ہیں تاکہ روزمرہ کے معمولات کو ادا کیا جاسکے، بروقت پہنچنے کی عادت سے لوگوں کا ذہن طے شدہ شیڈول کے مطابق کام کرتا ہے اور جسم بھی اس کے مطابق ڈھل جاتا ہے۔

وقت سے آگے سوچنا:

ایسے افراد اپنے ملبوسات پہننے کا تعین پہلے سے کرلیتے ہیں تاکہ صبح اٹھنے کے بعد مشکل یا الجھن کا شکار نہ ہوں، وہ کپڑوں پر وقت ضائع کرنے کی بجائے دیگر معاملات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جیسے ناشتہ کرنا وغیرہ۔

دیگر افراد کی زحمت کا خیال:

ایسے افراد کا ماننا ہوتا ہے کہ تاخیر سے پہنچنا بدتمیزی اور غرور کی علامت ہے، وہ اس عادت کی قدر کرتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ہر شخص کا وقت مساوی بنیادوں پر قابل قدر ہے۔

منظم شخصیت:

بکھری ہوئی میز ہو یا گھر دونوں آپ کی توجہ بھٹکاتے ہیں، وقت کے پابند افراد چیزوں کو صحیح اور منظم انداز میں رکھتے ہیں تاکہ ان کے کھونے کا امکان کم ہو اور اس طرح ان کی دیکھ بھال کا وقت بھی مل جاتا ہے۔

ٹال مٹول سے گریز:

بروقت پہنچنے کے عادی افراد اپنے کاموں کی منصوبہ بندی پہلے سے کرلیتے ہیں اور سب چیزوں کو اس طرح منظم کرتے ہیں کہ کبھی ٹال مٹول یا بہانے بازی کی ضرورت نہ پڑے، اسی طرح وہ بیک وقت کئی کام ایک ساتھ کرنے پر یقین نہیں رکھتے جو کہ وقت کا ضیاع ثابت ہونے والی عادت ہے۔

مثبت سوچ:

میں بہت مصروف ہوں یا میرے پاس کسی کام کے لیے وقت نہیں، یہ وہ منفی جملے ہیں جو آپ کو بے بسی کا احساس دلاتے ہیں۔ آپ اس سے ہٹ کر سوچیں کہ میں اپنے وقت کا اچھا استعمال کروں گا اور میں ایسا کرسکتا ہوں۔

انتظار میں وقت ضائع نہیں کرتے:

چونکہ ایسے افراد کو اکثر دیگر لوگوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے، چونکہ یا تو وہ جلد پہنچ جاتے ہیں یا دیگر افراد تاخیر سے پہنچتے ہیں، مگر وہ اس کا برا نہیں مناتے بلکہ وہ اس کے لیے تیار ہوتے ہیں یا اسے موثر طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔

انٹرنیٹ سرگرمیوں کا شیڈول:

ہر وقت سوشل میڈیا اکاونٹس سے منسلک رہنے سے آپ کی توجہ بھٹکتی ہے اور وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔ خاص طور پر ا±س وقت جب آپ کسی ضروری کام میں مصروف ہوتے ہیں، لہذا سوشل میڈیا کے استعمال کا شیڈول مرتب کرنا بھی ضروری ہے۔

اہم تقریبات نہیں بھولتے:

چونکہ وہ آنے والے وقت کو ذہن میں رکھ کر چلتے ہیں لہذا وہ کبھی بھی اپنے گھروالوں کی سالگرہ یا کسی تقریب کو نہیں بھولتے اور ہمیشہ اس کے لیے تیار رہتے ہیں۔