پاکستانی جیلیں ۔۔۔۔۔ جرائم کی آماجگاہیں

پاکستانی جیلیں ۔۔۔۔۔ جرائم کی آماجگاہیں

ہر نیا دن ایک سا ہے۔ وہ ہر صبح چھ بج کر 45 منٹ پر اٹھتے ہیں، ٹھیک بیس منٹ بعد ناشتہ کرتے ہیں اور پھر آٹھ بجے کام پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ہے جاپان میں کسی نوکری پیشہ شخص کی زندگی۔مگر 80برس سے زائد عمر کا ایک شخص ٹوکیو کی فوچو جیل میں ہے۔ چوری کی کوشش کے جرم میں قید ایک معمر شخص بتاتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں یہاں سے نکلنے کے بعد کیسی زندگی گزارنا پڑے گی، مجھے اپنی صحت اور مالی صورت حال کا خوف لاحق ہے۔

یہ اس ایک شخص کی حالت نہیں بلکہ جاپان میں جرائم کی ایک نئی لہر دیکھی جا رہی ہے اور وجہ یہ ہے کہ یہاں جیلوں کی صورت حال نرسنگ ہومز یا دیکھ بھال کے مراکز جیسی ہے۔اسی وجہ سے معمر افراد جیلوں میں رہنا پسند کر رہے ہیں۔

اب آپ ایک لمحے کیلئے تصور کیجئے کہ وہ دیس کیسا ہو گا، جہاں مجرم ہی نہیں ہونگے۔ مطلب وہاں جرم نہیں ہوتے اور مجرم نہ ہونے کی وجہ سے جیلیں بھی بند کرنا پڑ رہی ہیں۔ یقیناً سننے میں خواب ہی لگتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے۔ نیدرلینڈ تصوراتی دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں قیدی نہ ہونے کے باعث جیلیں بند ہو رہی ہیں۔2009 سے اب تک 27 جیلوں کو بند کر کے ہوٹلوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ یہاں کی فائیو اسٹار قسم کی جیلوں کو خالی ہوتا دیکھ کر ناروے نے اپنے ایک ہزار قیدی یہاں منتقل کر دیئے ہیں۔
اب آتے ہیں اپنے پیارے ملک پاکستان کی طرف جہاں ہر ادارے کی طرح جیلوں کی حالت زار بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ تمام جیلیں اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ مجرموں کو پناہ دیئے ہوئے ہیں۔ گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں کی موجودگی سنگین نوعیت کے کئی مسائل کی وجہ ہے۔ جہاں ایک کی جگہ تین تین بندے ٹھونسے گئے ہوں وہاں بنیادی حقوق کا تصور ہی محال ہے۔ قیدیوں کو خوراک، طبی امداد اور قانونی معاونت سمیت بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ یہ حقائق چونکا دینے والے ہیں کہ قیدیوں میں ایڈز، ہیپاٹائٹس اور ٹی بی جیسی بیماریاں عام ہیں۔ معاملہ صرف گنجائش سے زیادہ قیدی بھرنے اور ان کے خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے پر ہی نہیں رکتا بلکہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ہماری جیلیں جرائم کی آماجگاہ بن چکی ہیں۔جیل یاترا پر جانے والا چھوٹا مجرم پکا مجرم بن کر نکلتا ہے۔ اور جرم کی دنیا کے وہ تمام گر سیکھ چکا ہوتا ہے جو اس نے زندگی میں کبھی نہیں سیکھے اور نہ ہی باہر رہتے ہوئے وہ سیکھ پاتا۔ معمولی اور سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث مجرمان کو ایک ہی ڈنڈے سے ہانکا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں اکثر میڈیا میں جیلوں کے حوالے سے خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں ،جن میں جیل میں ہونیوالے غیر قانونی دھندے،جیسے کہ منشیات کا عام استعمال ، منشیات کے استعمال کے دوران لڑائی جھگڑا،جواء کھیلنے ، موبائل فون و اسلحہ پکڑے جانے اورخواتین قیدیوں سے بد سلوکی کے واقعات شامل ہیں۔جیل کے اندر کی بھی اپنی دنیا ہے۔وہاں پر ڈیرے داری بھی چلتی ہے۔جو بڑا بدمعاش زیادہ امیر اثر ورسوخ والا ہووہ جیل کا اہم ترین قیدی ہوتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ہماری جیلیں اصلاح خانوں کی بجائے جرائم کے ٹریننگ سنٹر بن چکے ہیں۔

جیلوں کے اندر قیدیوں کی اصلاح، کردار سازی اورمعاشی بحالی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جیل میں مجرم کو کیوں بھیجا جاتا ہے؟ اس لئے کہ اسے اس جرم کی سزا دی جاتی ہے جو اس سے سر زد ہوا ہوتا ہے ، تاکہ وہ آزاد رہ کر دوبارہ جرم نہ کر سکے۔ جرائم سے توبہ کر کے معاشرے کا کارآمد شہر ی بن سکے۔اور دوسرے لوگ اس کی سزا سے سبق سیکھ سکیں ۔لیکن ہمارے ہاں اس کے الٹ ہو رہا ہے۔جیل کے اس موجودہ نظام کو جرائم کی دنیا کا پرائمری سکول سے یونیورسٹی کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ہمارا یہ جیل کا نظام قیدیوں کو رہائی کے بعدجرائم چھوڑنے کی بجائے جرائم کی دنیا میں واپس جانے پر مائل کر رہا ہے۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم سب جانتے ہوئے بھی ان مسائل کے حل کی طرف توجہ نہیں دے سکے،ہماری حکومتوں نے جیل اصلاحات کے بارے میں کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ نہ ہمارے تعلیمی ادارے اس پر تحقیق کرتے ہیں،نہ مقالے لکھے جاتے ہیں اور نہ ہی میڈیا میں یہ بحث پروان چڑھتی ہے کہ ہم اپنی جیلوں کو کیسے ٹھیک کرسکتے ہیں۔ہمارے علماء کرام بھی اس مدمیں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے۔اگر اسی طرح رہا تو جیل میں جانے والا ہر فرد پہلے سے پکا مجرم بن جائے گا۔اور اسے کسی قسم کا ڈر خوف یا احساس شرمندگی بھی نہیں ہوگا۔
میری رائے میں اگر جیلوں کا نام تبدیل کر کے ’’اصلاحی مرکز‘‘ رکھ دیا جائے،اور ان اصلاحی مراکز میں قیدیوں کی ذاتی اور اخلاقی تربیت کی کی طرف بھرپور توجہ دینے کے ساتھ بہتر کھانے کی فراہمی ،سونے کا معقول انتظام ،جدید لائبریری کا انتظام،طبی سہولیات کی فراہمی،تعلیم کا بندوبست خصوصا اسلامی تعلیمات، مختلف ورکشاپس اور سیمینارز کا اہتمام، سپورٹس مقابلے، ٹیکنیکل شارٹ کورسز،ووکیشنل ٹریننگ جیسی سہولیات میسر ہوں تو کافی حد تک مجرموں میں سدھار لایا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ جب کوئی قیدی اپنی قید پوری کر کے آزاد ہوتا ہے تو کوئی بھی ادارہ اس کو اپنے ہاں ملازم نہیں رکھتا۔ایسے افراد کیلئے حکومتی سطح پر کاروبار کیلئے قرضہ حسنہ پروگرام یا مختلف اداروں میں نوکری کا بندوبست بھی کیا جاسکتا ہے۔

ہمارے علماء کو چاہیئے کہ فرقہ واریت چھوڑ کر اس موضوع پر بھی اپنا کردار ادا کریں۔ہمارے تعلیمی ادارے ،میڈیا ،سول سوسائٹی اور پرائیویٹ این جی اوز بھی جیلوں میں اصلاحات کے حوالے سے بھر پور کردار ادا کرسکتی ہیں۔اگر جیلوں میں اس طرح کے انتظامات کئے جائیں تو معاشرہ سے جرم کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا ۔

نوٹ: بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں

عبدالحنان مغل نے ایم اے پولیٹیکل سائنس کیا ہوا ہے اور اردو بلاگرہیں   

انکا فیس بک آئی ڈی