کسی بھی بیماری کیلئے دوائی کے ساتھ مریض کو یہ چیز بھی دی جائے تو وہ جلد ٹھیک ہوجاتا ہے

کسی بھی بیماری کیلئے دوائی کے ساتھ مریض کو یہ چیز بھی دی جائے تو وہ جلد ٹھیک ہوجاتا ہے

 کسی بھی بیماری کیلئے دوائی کے ساتھ مریض کو یہ چیز بھی دی جائے تو وہ جلد ٹھیک ہوجاتا ہے

نیویارک: ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو چاہیے کہ جب بھی مریض کا علاج کریں تو اس کی ذہنی حالت کا خیال کریں اور اسے دوائی دینے سے پہلے مثبت ذہنی حالت میں لائیں کہ اس طرح دوائی کا اثر زیادہ ہوگا اور وہ بیماری سے بہتر طریقے سے لڑسکے گا۔ماہر نفسیات اور تحقیق کار ایلیا کرم کا کہنا ہے کہ دوائی دیتے ہوئے ماہرین صحت مریض کی ذہنی اور معاشرتی حالت پر توجہ نہیں دیتے جس کی وجہ سے دوائی کا اثر کم ہوتا ہے ۔’’اگر مریض کو مثبت رکھا جائے اور ساتھ ہی اس کی معاشرتی حالت پر توجہ دی جائے تو دوائی کی وجہ سے زیادہ اچھے نتائج ملیں گے۔‘‘ اس کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹر مریض کودوائی دیتے ہوئے ان چیزوں کو مدنظر رکھیں گے تو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو صحت یاب کرنے میں آسانی ہوگی۔


سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مریض کو دوائی کے ساتھ دماغی طور پر بھی حوصلہ افزائی کریں کہ اس طرح وہ جلد ٹھیک ہوجائے گا۔