بڑے ڈیموں میں پانی کی کمی سے لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ ملکی زراعت متاثر ہونے کا بھی خدشہ

بڑے ڈیموں میں پانی کی کمی سے لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ ملکی زراعت متاثر ہونے کا بھی خدشہ

لاہور(: ملک کے سب سے بڑے تربیلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ ختم ہو نے سے لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ ملکی زراعت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔  پانی کا ذخیرہ ختم ہونے پر تربیلا ڈیم خالی ہو گیا تھا جس کے بعد ڈیم سے بجلی کی پیداوار بھی چالیس سے پچاس فیصد کم ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق منگلا ڈیم میں بھی صرف چودہ فٹ پانی باقی رہ گیا ہے۔


پانی کی عدم دستیابی کے باعث زرعی ضروریات کیلئے پانی کی فراہمی پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے دونوں بڑے ڈیموں میں پانی کی کمی سے پن بجلی کی پیداوار صرف ایک ہزار میگاواٹ تک رہ گئی ہے جس کے بعد بجلی پیداوار کا تمام تر انحصار تھرمل اور گیس پاور پلانٹس پر ہے ایسے میں بجلی لوڈشیڈنگ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ وزارت پانی و بجلی حکام کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو شہروں میں کم ازکم چھ گھنٹے اور دیہات میں 9 گھنٹے تک بجلی بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے.