لندن: دنیا بھر میں کئی اداروں کو تاوان وصول کرنے کی خاطر شدید سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے جس سے ہزاروں مقامات پر کمپیوٹر لاک ہو گئے ہیں۔ان اداروں سے کمپیوٹر کھولنے کے لیے تین سو ڈالر بِٹ کوئن کی شکل میں تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، چین، روس، سپین، اٹلی اور تائیوان سمیت 100 ملکوں میں اس حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

برطانیہ بھر میں این ایچ ایس کے اسپتالوں کی مشینوں اور آلات کے کام نہ کرنے کی وجہ سے کئی آپریشن ملتوی کر دیے گئے۔ کمپیوٹرز اور ٹیلی فون بند ہیں جبکہ ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سائبر حملے کی وجہ سے اسپتال عملے کی ڈیٹا تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔ این ایچ ایس حکام کا کہنا ہے کہ وہ مسئلے کا حل کرنے میں مصروف ہیں اور جلد ہی اس پر قابو پالیں گے۔

سائبر سکیورٹی کے ماہرین ان واقعات کو ایک مشترکہ حملے کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ ایک ماہر نے ٹویٹ کیا کہ انھوں نے ہزاروں کمپیوٹروں میں وانا کرائی (WannaCry) نامی رینسم ویئر دیکھا ہے۔ رینسم ویئر وہ کمپیوٹر وائرس ہوتا ہے جس کی مدد سے وائرس کمپیوٹر یا فائلیں لاک کر دیتا ہے اور اسے کھولنے کا معاوضہ مانگا جاتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس کمپیوٹر انفیکشن کا تعلق ایک ہیکر گروپ 'دی شیڈو بروکرز' سے ہے جس نے حال ہی میں امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی سے ہیکنگ ٹولز چرا کر نشر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ایک اور ماہر نے کہا ہے کہ رینسم ویئر 74 ملکوں میں دیکھا جا چکا ہے اور اس فہرست میں مزید ملک شامل ہو رہے ہیں۔ مائیکرو سافٹ کمپنی نے گذشتہ مارچ میں اسی قسم کے حملے سے بچنے کے لیے ایک پیچ جاری کیا تھا لیکن بہت سے کمپیوٹروں میں یہ انسٹال نہیں ہو سکا۔ بعض سکیورٹی ماہرین نے توجہ دلائی ہے کہ یہ انفیکشن ورم نامی ایک پروگرام کی مدد سے پھیلائے گئے ہیں جو کمپیوٹروں کے درمیان از خود منتقل ہوتا ہے۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں

 

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں