مستونگ: گزشتہ روز جے یو آئی (ف) کے رہنما کو مستونگ میں اسوقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے۔ اچانک خوفناک دھماکہ ہوا اور ہر طرف لاشے بکھر گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق جونہی ایک شخص گاڑی کے آگے آیا تو قیامت ٹوٹ پڑی۔ پولیس اور امدادی کارکنوں نے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا جہاں انکی حالت خطرے سے باہر ہے۔ انکا کہنا ہے کہ دھمکیاں پہلے سے مل رہی تھیں۔

پولیس نے دھماکے کو خود کش حملہ قرار دیا ہے تاہم ڈی آئی جی عبدالرزاق کہتے ہیں فرانزک ماہرین کی ٹیم ہی دھماکے کی نوعیت بتا سکے گی۔ حملہ آور کون تھے ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے پر حقائق سامنے آئیں گے۔

سکیورٹی فورسزاور پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دیں۔

 

 

مصنف کے بارے میں