ہائبرڈ نظام اور میڈیا انڈسٹری

ہائبرڈ نظام اور میڈیا انڈسٹری

پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ہائبرڈ نظام کا تجربہ بھی دفن ہوگیا۔ منصوبہ سازوں نے آئینی سیاسی نظام کے ساتھ آزاد عدلیہ اور میڈیا کو بھی مکمل طور پر سرنگوں کرنے کی پوری کوشش کی ۔ یہ خواہش تو پوری نہ ہوسکی مگر جبری طور پر مسلط کردہ نظام کی تباہ کاریوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ یوں تو پورا ملک متاثر ہوا جسے نارمل حالت میں واپس لانے پر کافی وقت لگے گا مگر جو شعبے زندہ درگور ہوگئے ان میں میڈیا انڈسٹری بھی شامل ہے ۔ نیا پاکستان بنتے ہی اس وقت کے وزیر اطلاعات نے کسی لگی لپٹی کے بغیر سرعام کہہ دیا کہ اپنے بچوں کو میڈیا ایجوکیشن سے دور رکھیں کیونکہ اب ملک میں ان کا کوئی مستقبل نہیں ۔ ریاستی پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا گیا کہ اخبارات کی ضرورت ہی نہیں اس لیے خود ہی بند کردئیے جائیں ۔ جبکہ نیوز چینلوں کو بھی مکمل طور پر انٹرٹینمنٹ کی طرف آنا ہوگا ۔ یعنی وہاں سے بھی تمام صحافی فارغ ہو جائیں گے اور یہ شعبہ فنکاروں کے سپرد کردیا جائے گا ۔اسٹیبلشمنٹ کی نافذ کردہ مثبت خبریں ڈاکٹرائن کے تحت یہ پالیسی پہلے ہی دی جاچکی تھی کہ آئندہ خبریں پی ٹی وی کی طرز پر ہی نشر اورشائع کی جا سکیں گی ۔ ایک پیج کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی پہلا بڑا وار میڈیا پر کیا ۔ اشتہارات بند کیے گئے ۔ نجی کمپنیوں ،اداروں کو دھمکایا گیا کہ وہ بھی بزنس صرف مخصوص ٹی وی چینلوں کو دیں ۔ کارکن صحافیوں کو نہیں بلکہ میڈیا ہائوسز کے مالکان کو بھی مقتدر شخصیات کی جانب سے براہ راست اور بالواسطہ پیغامات ملے اب ملک میں صرف شمالی کوریا اور میانمار کی طرز پر صحافت کرنے کی اجازت ہوگی ۔ مالی دبائو بڑھانے کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بڑی تعداد میں اخبارات اورکئی نیوز چینل بند ہوگئے ۔ جو کسی نہ کسی طرح بچ رہے  وہاں بڑے پیمانے پر برطرفیاں کی گئیں ۔ ہزاروں کی تعداد میں صحافی اور میڈیا ورکروں کو روزگار کے لالے پڑ گئے ۔ ملک کی خراب معاشی صورتحال کے سبب متبادل کام کاج کے مواقع بھی محدود ہوچکے تھے ۔ اسی لیے اپنے بچوں پیٹ پالنے کے لیے کوئی رکشہ چلانے پر مجبور ہوگیا تو کوئی ریڑھی لگانے لگا ۔ کم و بیش تمام میڈیا ہائوسز نے سٹاف کی تنخواہیں کم کردیں اور ادائیگی بھی تاخیر سے ہونے لگی ۔ملازمت کے عدم تحفظ کی مسلسل لٹکتی تلوار نے میڈیا اداروں کے ملازمین کو شدید پریشانی سے دوچار کردیا ۔ اسی دبائو کے نتیجے میں بہت سے بزرگ اور نوجوان صحافی بیمار ہوگئے ۔ کئی دنیا چھوڑ گئے ۔ پریس کلب اور صحافی یونینز کے دفاتر بے روزگار صحافیوں سے بھرے رہنے لگے کیونکہ فارغ وقت کاٹنے کے لیے بھی کوئی اور جگہ دستیاب نہ تھی ۔ دفاتر میں چھانٹیوں کے باعث ایک جانب تو کام کا دبائو بڑھ گیا دوسری طرف آرام اور دیگر معمولات زندگی کے لیے چند چھٹیاں لینا بھی عذاب بن گیا ۔ یہ ظلم بھی ہوا کہ بعض اداروں میں ا نتظامیہ نے کام کے اوقات بھی آٹھ گھنٹے سے بڑھا کر دس یا بارہ گھنٹے کردئیے ۔ یوں صحافتی فرائض انجام دینا شدید ذہنی اور جسمانی بوجھ بن گیا ۔ ایک طرف تو یہ عالم تھا کہ پیشہ ور صحافیوں کے لیے زمین تنگ کردی گئی ۔ دوسری جانب ٹائوٹ اینکروں اور تجزیہ کاروں کو یوں نوازا گیا کہ خزانوں کے منہ کھول دئیے گئے ۔ سیاستدانوں کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے والے اینکروں کو مختلف میڈیا ہائوسز میں لاکھوں روپے ماہانہ پر نوکریاں دلوائی گئیں ۔ ہائبرڈ نظام کے تحت دنیا کا سب سے بڑا ریاستی میڈیا سیل بنا کر ان اینکروں سے وہاں بھی یو ٹیوب چینل بنوا کر 

پراپیگنڈہ کرایا گیا ۔ مربوط اور منظم طریقے سے ہر ٹائوٹ کو لاکھوں افراد کی سبسکریپشن فراہم کی گئی ۔ اس مقصد کے لیے جعلی اور مصنوعی اکاؤنٹس بھی استعمال کیے گئے ۔ بیرون ملک بھی دفاتر بنائے گئے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اب یہی سوشل میڈیا سیل سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ مل کرملکی سلامتی کے اداروں کی ساکھ کی دھجیاں اڑا رہا ہے ۔ انتہائی افسوس اور شرم کا مقام ہے کہ اس مقصد کے لیے عوام کے ٹیکسوں اور غیرملکی قرضوںکے پیسے کو پانی کی طرح بہایا گیا ۔ مافیاز سے کہا گیا کہ وہ اپنے میڈیا ہاؤس قائم کرکے سیاستدانوں کی ٹھکائی کریں ۔ ایسا ہی ہوا مگر یہ سب مفت میں تھا نہ ہوسکتا ہے ۔ جس جس مافیا کے پیسے میڈیا میں لگوائے گئے اس اس نے اپنے شعبوں میں لوٹ مار کا بازار گرم کردیا کیونکہ انہیں یقین دلا دیا گیا تھا کہ کوئی سرکاری محکمہ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ بھی نہیں سکتا ۔ یوں پوری میڈیا انڈسٹری کو گندا کرنے کی سوچی سمجھی کوشش کی گئی ۔ مخصوص پراپیگنڈہ کے لیے قائم کردہ بعض میڈیا ہائوسز پر اربوں روپے خرچ کیے گئے مگر چند ایک بن کھلے ہی مرجھا گئے ۔ پراجیکٹ کے انچارج سرکاری افسروں نے پہلے ہی سے مختص رقم کا بڑاحصہ دبا لیا تو ملازم ٹائوٹ صحافی بھی پیچھے نہ رہے ۔ ایک نہیں کئی ایک ارب پتی بن چکے ہیں ۔ہائبرڈ نظام صحافت کے حوالے سیاہ ترین دور تھا ۔ ایک طرف جھوٹے پراپیگنڈے اور لوٹ مار کا بازار گرم تھا تو دوسری جانب سچ بولنے والے صحافیوں کو نوکریوں سے نکلوایا جارہا تھا ۔ جس نے سوشل میڈیا پر حقیقت بتانے کی کوشش کی اسے گولی مار دی گئی ، بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، مقدمات بنا کر جیلوں میں ڈالا گیا ۔ پی ٹی آئی کی شکل میں ہائبرڈ نظام کا ظاہری حصہ منہدم ہوگیا مگر پر وردہ اینکروں کے لیے سہولیات اور پیشہ ور صحافیوں کے لیے مشکلات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔کسی کو اچھا لگے یا برا ، سچ تو یہ ہے جب تک ٹائوٹ صحافیوں اور ان کے سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے لاکر کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا تب تک وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے۔ ایک صحافی ٹائوٹ اینکروں کے سبب براہ راست متاثر ہوتا ہے ۔ بعض ادارے جب ٹائوٹ اینکروں کو بھاری تنخواہوں پر نوکری دیتے ہیں تو بجٹ پر بھاری بوجھ پڑتا ہے جس سے پیشہ ور  صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے مالی بہتری کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں ۔ شہباز شریف نے وزیر اعظم بننے کے بعد میڈیا سے جس انداز میں رابطے کیے ہیں اس سے بالکل نہیں لگتا کہ ٹائوٹ اینکروں کے خلاف کوئی کارروائی ہونے کا امکان ہے ۔یہ بات بھی تسلیم کی جانی چاہیے کہ عدلیہ کی طرح میڈیا میں بھی چند شخصیات نے جبر کے ماحول میں بھی سچ بولنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ کسی ادارے کے دبائو میں نہیںآئے ۔ ان چند کرداروں کے عزم اور قربانیاں کے سبب ہی آج ملک میں عدلیہ بھی قدرے بہتر کام کررہی ہے اور آزاد میڈیا بھی موجود ہے ۔ ایسے لوگوں کی خدمات کو سراہا جانا چاہیے ۔ ملک کے حالات ایسے ہیں کہ حقیقی پیشہ ور صحافیوں کے حالات میں بہتری کے فوری امکانات نہیں ۔ ایسا نہیں کہ عمران حکومت آنے سے پہلے صحافیوں کے لیے کوئی بہت آئیڈیل صورتحال تھی ۔ مگر اتنا ضرور تھا کہ بے روزگاری کی شرح کم تھی ، تنخواہیں مل بھی رہی تھیں بلکہ ہر سال اضافہ بھی ہورہا تھا ۔ بعض میڈیا ہاؤس اپنے ملازمین کے علاج معالجے کے لیے بھی معاونت کررہے تھے ۔ ہائی برڈ نظام میں تو میڈیا کے ساتھ صحافیوں کا گلہ بھی گھونٹا گیا ۔ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا کہ صحافیوں کی ملازمتوں کو تحفظ حاصل تھا ۔ بزنس بھی ملتے تھے ۔ اہل خانہ سمیت میڈیکل کی سہولت بھی میسر تھی ۔ پکے تقرر نامے ملتے تھے ۔ سال میں تنخواہ کے ساتھ 33 چھٹیاں ملتی تھیں ۔ 20 اتفاقی چھٹیاں کرنے کی گنجائش موجود تھی ۔ طبی بنیادوں پر بارہ چھٹیاں الگ سے لی جاسکتی تھیں ۔ ریٹائرمنٹ کے وقت پراویڈنٹ فنڈ اور گر یجوئٹی کی مد میں معقول رقم مل جاتی ۔ جس سے بچوں کی شادیوں سمیت دیگر بڑے اخراجات کیے جاسکتے تھے ۔ یعنی مالی تحفظ حاصل رہتا ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پھر سے کنڑیکٹ پر ملازمت مل جایا کرتی تھی ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اکثر ادارے تقررنامہ ہی نہیں دیتے ۔ چھوٹے بڑے عہدوں پر متمکن صحافیوں کو صرف ایک فون کال پر فارغ کردیا جاتا ہے ۔ واجبات بھی دبا لیے جاتے ہیں ۔ یعنی نوکری سے فراغت سنتے ہی مراعات کے حوالے جو کچھ دفتر سے ملا فورا واپس کرکے خالی ہاتھ گھر جانا پڑتا ہے ۔ہائبرڈ سسٹم سے جہاں قوم تقسیم ہوئی وہیں صحافیوں کے یونینز میں بھی دھڑے بندی ہوئی ۔ اس طرح میڈیا میں کام کرنے والوں کے جائز حقوق کا تحفظ اور بھی مشکل ہوگیا ۔اب دعا ہی کی جاسکتی ہے ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام آئے اور پھر حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر مل کر صحافیوں کی شرائط ملازمت ، تنخواہوں اور مراعات کے حوالے سے کوئی ٹھوس منصوبہ  تیار کریں۔جسے قانونی تحفظ بھی حاصل ہو ۔ فی الوقت تو یہی صورتحال ہے کہ جیسے ایک دور میں نئے وکیل کے بارے میں کہا جاتا کہ اگر وہ کھاتے پیتے گھر کا ہے تو صبر کے ساتھ پانچ ، دس سال تک محنت کرکے اپنی پریکٹس کو چمکا سکتا ہے ۔ آجکل کی صحافت اس سے کہیں زیادہ مشکل ٹاسک ہے اگر کسی کا کوئی اچھا سائیڈ بزنس چل رہا ہے تو سکون سے صحافت بھی وہی کرسکتا ہے ۔ ہاں مگر اس کا اطلاق ٹائوٹ صحافیوں اور اینکروں پر نہیں ہوتا ۔ وہ تو پہلے ہی بادشاہ ہیں۔

مصنف کے بارے میں