امریکا کاایران کو طیاروں کی فروخت پر پابندی پر غور

امریکا کاایران کو طیاروں کی فروخت پر پابندی پر غور

واشنگٹن :امریکا ایران کو ہوائی جہازوں کی فروخت پر پابندی پر غور کررہا ہے۔ اطلاعات کے مطابقآج (پیرکو)کانگریس کی ہفتہ وار تعطیلات ختم ہونے کے بعد ایوان نمائندگان میں ایک بل پر رائے شماری کی جائے گی جس میں ایران کو بوئنگ کمپنی کے ہوائی جہازوں کی فروخت پر پابندی کرنے کی سفارش کی جائے گی۔


غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران کو بوئنگ طیاروں کی فروخت پر پابندی کے لیے کانگریس کی تازہ کوششیں امریکا میں ہونے والے تازہ صدارتی انتخابات کے بعد شروع کی گئی ہیں۔ حالیہ صدارتی انتخابات میں ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کامیابی حاصل کی ہے۔

چونکہ اس وقت کانگریس میں ری پبلیکنز کی تعداد زیادہ ہے۔ اس لیے غالب امکان یہی ہے کہ ایران کو ہوائی جہازوں کی فروخت پرپابندی کی قرارداد منظور کی جاسکتی ہے۔ری پبلیکن رکن کانگریس بیل ہویزنگا کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران کو طیاروں کی فروخت پر پابندی کی قرارداد پر کام شروع کردیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی کانگریس نے جولائی 2016 کو کثرت رائے سے ایران کو بوئنگ طیاروں کی فروخت کے خلاف ایک قرارداد منظور کی تھی۔ قرارداد کی حمایت میں 239 اور مخالفت میں 185 ارکان کی رائے سامنے آئی تھی۔ کانگریس کی قرارداد کے باوجود اوباما انتظامیہ نے ایران کو طیاروں کی فروخت کا عزم ظاہر کیا تھا۔۔