بھارت سے جوہری معاہدے پر جاپان میں تنقید شروع ہوگئی

بھارت سے جوہری معاہدے پر جاپان میں تنقید شروع ہوگئی

ٹوکیو :جاپانی حکومت نے بھارت کے ساتھ سول جوہری تعاون کے لیے ایک متنازع معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق طے پانے والے اس معاہدے نے ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں زندہ بچ جانے والوں اور اس معاہدے کے مخالفین کو مایوس کیا ہے کیونکہ یہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ٹوکیو نے معاشی ترقی کو دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوششوں پر ترجیح دی ہے۔


معاہدے نے جاپان کی جوہری توانائی کے لیے ایک بڑی مارکیٹ کا راستہ کھول دیا ہے۔ 2011 میں فوکوشیما میں پیش آنے والے حادثے کے بعد جاپانی جوہری صنعت تنزلی کا شکار تھی۔ معاہدے کے مخالفین کا موقف ہے کہ انڈیا جس نے 70 کی دہائی اور نوے کی دہائی میں جوہری دھماکے کیے تھے وہ اس ٹیکنالوجی کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت نے جوہری عدم پھیلاو¿ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔دوسری جانب جاپانی حکومت ان خدشات کو مسترد کر رہی ہے اس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ پرامن مقاصد کے لیے ہے اور معاہدے میں ایسی شقیں رکھی گی ہیں جن سے اس بات کو یقینی بنایا جائےگا کہ اگر بھارت نے 2008 میں کیے جانے والے اس وعدے کی خلاف ورزی کی کہ وہ جوہری تجربہ نہیں کرےگا تو موجودہ معاہدے کو ختم کر دیا جائےگا۔