ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آنگ سان سوچی سے اعزاز واپس لے لیا

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آنگ سان سوچی سے اعزاز واپس لے لیا
آنگ سان سوچی امید، حوصلے اور انسانی حقوق کی علمبردار نہیں رہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل۔۔۔۔۔فائل فوٹو

لندن: روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا رد عمل۔ میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے ضمیر کی سفیر کا اعزاز واپس لے لیا. لندن میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ آنگ سان سوچی امید، حوصلے اور انسانی حقوق کی علمبردار نہیں رہیں۔ ان کی موجودہ حیثیت میں ’ضمیر کی سفیر‘ کے اعزاز کا جواز پیش نہیں کر سکتے اس لیے دکھ کے ساتھ یہ ایوارڈ واپس لیا جا رہا ہے۔


خط میں کہا گیا ہے کہ میانمار کے صوبے رخائن میں ہزاروں روہنگیا باشندے قتل کیے گئے۔ تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنائے گئے اور حکومت نے فوجی اقدام کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے لازمی قرار دیا۔

خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ تسلیم کرتے ہیں کہ سوچی کو فوج پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ جرائم کےساتھ کھڑی رہیں اور عالمی تحقیقات میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ ان کی حکومت کےدوران انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

واضح رہے کہ 2009 میں نظربندی کے دوران آنگ سان سوچی کو ’ضمیر کی سفیر کا ایوارڈ‘ دیا گیا تھا۔