حکومتی سفر: قدم قدم پر نئے چوراہے

حکومتی سفر: قدم قدم پر نئے چوراہے

آج کل اچھی خبریں کم جبکہ بحرانی خبریں زیادہ ملتی ہیں لیکن امید کی کرن کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہوتی ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل ہو سکتی ہے۔ آج کل معیشت آئی ایم ایف، ڈالر ریٹ اور تجارتی خسارے کی خبریں اس لیے زیادہ ہیں کیونکہ یہ عام آدمی کی زندگی پر زیادہ بری طرح اثر انداز ہو رہی ہیں جیسے ہی ڈالر کا ریٹ بڑھتا ہے پٹرول مہنگا ہوتا ہے کرائے بڑھتے ہیں اور مہنگائی کا ایک زلزلہ آجاتا ہے۔ اس پس منظر میں اس ہفتے شنگھائی میں ایک پر وقار تقریب میں چائنا سٹیٹ شپ بلڈنگ کارپوریشن (CSSC) نے تاریخ میں سب سے بڑا جنگی بحری جہاز پاکستان کے حوالے کیا جس کے لیے پاکستان کے نیوی حکام موجود تھے۔ یہ جنگی جہاز (Warship) جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے جو چائنا نے اپنے پرانے دوست پاکستان کو دیا ہے تا کہ پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا جا سکے۔ 054A/P فریگیٹ پاکستان نیوی کے بحری بیڑے کا حصہ بننے کے بعد اس کا نام PN تغرل رکھا گیا ہے۔ معاہدہ کے مطابق اس طرح کے 4 جنگی بحری جہازوں کا معاہدہ کیا گیا تھا جن میں یہ پہلا جہاز ہے۔ یہ جدید ترین ایڈوانس ٹیکنالوجی کا ایک وسیع پلیٹ فارم ہے جو Surface to Surface اور سمندر سے فضا میں مار کرنے اور سمندر کی تہہ میں فائر پاور اور سرویلنس کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس میں جنگی حکمت عملی، الیکٹرانک یا برقی جنگ اور دفاعی صلاحیت کے اعلیٰ ترین سسٹم تشکیل دیئے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ بیک وقت کثیر المقاصد امور انجام دے سکتا ہے اور جنگ کے ماحول میں اعلیٰ درجے کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی صلاحیت رکھا ہے۔ جنگ کے دوران اب دشمن کے لیے پاکستان کی بحری ناکہ بندی یا رسد کی ترسیل میں خلل اندازی ممکن نہیں اس خبر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس پر پاکستان سے زیادہ انڈیا میں تبصرے اور تجزیے ہو رہے ہیں۔ بہرحال چائنا نے گہری پاک چین دوستی کا حق ادا کر دیا ہے۔ جس کے بعد پاکستان کی سالمیت کے لیے خطرہ بننے والے بیرونی عوامل کا گراف بہت نیچے آ گیا ہے البتہ ملک کے اندرونی عوامل اب بھی پہلے سے زیادہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ 

اس ہفتے حکومت نے انتخابی اصلاحات پر بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو آخری موقع پر موخر کر دیا جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ حکومت کو بل پاس کرانے میں دقت کا سامنا ہے اس سے پہلے وزیراعظم نے پارٹی کو اس اجلاس میں جہاد سمجھ کر شرکت کے لیے اپیل کی تھی مگر وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ’’جہاد‘‘ ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا جس سے حکومت کو کافی شرمندگی اٹھانا پڑی۔ حکومت کہتی ہے کہ ہم نے اتفاق رائے کی خاطر ملتوی کیا ہے جبکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ حکومت کو ق لیگ ، ایم کیو ایم اور دیگر چھوٹے اتحادیوں کی طرف سے عدم اعتماد اور اتفاق رائے کے فقدان کا سامنا ہے۔ ان جماعتوں کو اعتراض ہے کہ حکومت نے انتخابی اصلاحات پر آج تک ان سے مشورہ نہیں کیا لہٰذا وہ ووٹ نہیں دیں گے۔ یہ اصل وجہ تھی جس میں چوہدری پرویز الٰہی کے شدید تحفظات کے بعد حکومت نے اجلاس ٹال دیا لیکن یہ صورت حال زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ پائے گی۔ 

اقتدار کا پانچواں یا آخری سال ہر دور حکومت میں الیکشن ایئر یا الیکشن کا سال ہوتا ہے لہٰذا اس وقت جبکہ چوتھا سال آدھے سے زیادہ بہت چکا ہے یہ حکومتی اتحادی کے لیے پر تولنے کا وقت ہے کہ آگے ان کی پرواز کی سمت کیا ہے۔ اب حکومتی اتحاد برائے نام باقی ہے۔ افراتفری کا عالم ہے اور ہر  کوئی اپنی فکر میں ہے اتحادی جماعتیں تو کیا اب تو حکومتی پارٹی کے Electables بھی سوچ رہے ہیں کہ اگلا ٹکٹ کس سے لینا ہے۔ جو لوگ آزاد جیت کر پارٹی میں شامل ہوئے تھے وہ یقینا دوبارہ آزادی کا خواب دیکھ رہے ہیں اس کے علاوہ پارٹی کے اندر ناراض طبقہ کی بے چینی بڑھ رہی ہے بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو ناقص حکومتی کارکردگی پر خود کو اس گناہ سے بری کروانا چاہتے ہیں۔ 

حکومت نے اربوں روپے کی توڑ پھوڑ اور درجنوں بے گناہوں کی قربانی کے بعد تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ خفیہ معاہدہ کر کے دھرنا ختم کر وا دیا ہے۔ اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ معاہدہ کی تفصیلات سامنے لائی جائیں مگر حکومت اس سے گریزاں ہے اس پارٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ بھی واپس لیا جا چکا ہے حالانکہ یہی حکومت کہتی تھی کہ جماعت کے انڈیا کے ساتھ رابطے ہیں۔ اس بارے میں وزارت داخلہ کی وہ رپورٹ بھی منظر عام پر نہیں لائی گئی جس میں کابینہ کو سفارش کی گئی تھی کہ ان سے پابندی ہٹائیں۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جانا چاہیے مگر پارلیمنٹ تو کیا پارٹی کے اندر کسی کو پتہ نہیں ہے کہ تحریک انصاف میں فیصلے کہاں ہوتے ہیں۔ البتہ حکومت اور دھرنا والوں کے درمیان مذاکرات کے سہولت کاروں کی سرگرمیوں اور میل ملاقاتوں سے کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کون سی میڈیسن مؤثر ثابت ہوئی۔ جانتے سب ہیں بولتا کوئی نہیں۔ 

دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان TTP اور حکومت کے درمیان اسلامی امارات آف افغانستان کے توسط سے مذاکرات کی خبریں آرہی ہیں ان میں افغان طالبان حکومت معاہدے کے ضامن ہیں۔ TTP نے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ مزید تفصیلات دستیاب نہیں ہیں سب سے مشکل مرحلہ یہ ہے کہ TTP والے دہشت گردی کے الزام میں جیلوں میں بند اپنے ساتھیوں کی رہائی چاہتے ہیں جن میں اکثریت فوج کے جوانوں کو شہید کرنے اور خود کش حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کی ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اگر امریکہ 20 سال لڑنے کے بعد طالبان سے صلح کر سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں۔ اس نظریے کو توسیع دیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے 4 سال اپوزیشن کے ساتھ محاذ آرائی اور انتقام میں گزار دیئے اگر TTP کے ساتھ مذاکرات ہو سکتے ہیں تو پارلیمنٹ کے اندر کی جماعتیں ن لیگ یا پیپلزپارٹی کے ساتھ کیوں نہیں۔ آخر آپ نے کیوں سیاسی فیصلوں میں اتفاق رائے پیدا نہیں کیا اور نیب کو ذات اناپرستی کے لیے استعمال کر کے اس ادارے کی جڑیں اکھاڑ دیں اور بالآخرنیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے اس کو بالکل ایک بے بس ، بے اختیار اور نا اہل ادارے میں تبدیل کر دیا جسے اب کسی ممبر پارلیمنٹ کو پکڑنے کا اختیار ہی نہیں ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ حکومت یہ چاہتی ہے کہ جب وہ اقتدار سے محروم ہو تو نیب انہیں کچھ نہ کہے گویا یہ اپنے آپ کو NRO دیا گیا ہے۔ 

اس سے کم از کم اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حکومت اب جان چکی ہے کہ ان کی وسیع النبیاد عوامی نا مقبولیت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اگلے انتخابات میں عوام انہیں مسترد کر دیں گے۔ اس لیے حکومت اپنے لیے سدباب کے طور پر نیب کو رول بیک کرنے کا قانون لا رہی ہے۔ 

سپریم کورٹ کا آناً فاناً دو گھنٹے کے نوٹس پر وزیراعظم کو طلب کرنا اور وزیراعظم کا وہاں جانا بہت بڑی خبر ہے۔ یہ پیش رفت حیرت انگیز ہے ۔ سپریم کورٹ میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مقدمہ 7 سال سے موجود ہے مگر اچانک اس میں اتنی تیزی آجانا سمجھ سے باہر ہے۔ اعلیٰ عدالتیں شاید یہ بتانا چاہتی ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آرمی چیف کی توسیع کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا مگر بعد میں اس سے کچھ بھی نہ نکلا۔ دلچسپ با ت یہ ہے کہ وزیراعظم نے چیف جسٹص سے سوال کیا کہ 80 ہزار بے گناہوں کے قتل کا ذمہ دار کون ہے تو انہوں نے کہا کہ اس کا جواب ہمیں نہیں آپ کو دینا چاہیے۔ حکومت کے لیے قدم قدم پر نئے چوراہے کھل رہے ہیں انہیں سمجھ نہیں آتی کہ دائیں بائیں مڑنا ہے یا سیدھا جانا ہے۔ ورنہ پھر یوٹرن لینا ہے۔