جاگنا نہیں سوئے رہنا

جاگنا نہیں سوئے رہنا

یہ لوگ بھی کیا لوگ ہیں کہ ان پر ستم در ستم ڈھائے جا رہے ہیں مگر انہیں کوئی پروا نہیں سوئے پڑے ہیں جگانے والے اپنا فرض پورا کر رہے ہیں مگر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ 

مغربی ممالک ہوں یا یورپ کے عوام کسی سیاسی جماعت کی کال کے بغیر حکمرانوں کی زیادتیوں کے خلاف خود بخود سڑکوں پر احتجاج کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں مگر یہاں صورت حال مختلف ہے کہ انہیں سیاسی جماعتیں جب تک کسی احتجاجی تحریک کے لیے نہیں آواز دیتیں وہ باہر نہیں آتے۔ ان میں بھی زیادہ تر جماعت سے وابستہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں وہ جماعت اقتدار میں آ کر یکسر نظر انداز کر دیتی ہے۔ 

موجودہ حکومت کے سربراہ نے پچھلی حکومت کے خلاف لوگوں کو مسائل سے چھٹکارے کی نوید دی کہ اگر وہ ان کا ساتھ دیتے ہیں اور اقتدار میں لاتے ہیں تو انہیں خوشحالی کے راستے پر گامزن کر دیا جائے گا لہٰذا ان کے جلسے بھرپور ہوتے تل دھرنے کو جگہ نہ ہوتی کوئی جلوس نکلتا تو وہ بھی بھرپور ہوتا اور اس میں جوش و جذبہ ابھرتی لہروں کی مانند دکھائی دے رہا ہوتا مگر جونہی منظر بدلا عمران خان اور ان کے ساتھی کامیاب ہو گئے اور اختیارات کا قلمدان ان کے ہاتھ میں آ گیا وہ اپنے ووٹروں سپورٹروں اور کارکنوں کو بھول گئے اور آ گئے اسی ڈگر پر جس پر گزشتہ حکومتیں رواں تھیں کہ مال پانی بناؤ مصنوعی مہنگائی کرو ٹیکس پر ٹیکس لگاؤ اور انہیںریاستی طاقت سے ڈراؤ دھمکاؤ اور دباؤ۔ اب حالت یہ ہے کہ لوگ لمبی تان کر سو گئے ہیں کہ جو ہوتا ہے ہو دیکھا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آئے روز چیزیں کھانے پینے والی مہنگی ہو رہی ہیں مگر کوئی ہلچل نہیں۔ 

اگرچہ حزب اختلاف کوئی رولا ڈالنے کا پروگرام ترتیب دے رہی ہے اور لوگوں کو سڑکوں پر لانے کے لیے مہنگائی کا ایشو ان کے سامنے رکھ رہی ہے۔ اس کے بعد لانگ مارچ کا ارادہ ظاہر کر رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی اپنے لیے ہی یہ سب کرنا چاہ رہی ہے اس کے ادوار میں بھی یہ پٹ سیاپا اسی طرح تھا لوگ مہنگائی مہنگائی کی گردان کرتے تھے اور وہ انہیں لولی پاپ دے کر ٹھنڈا کیے رکھتی تھی۔

حزب اختلاف کے اس مجوزہ پروگرام کے پیش نظر حکومت نے بھی جلسوں اور جلوسوں کا عندیہ دیا ہے کہ وہ بھی لوگوں کو متحرک کرے گی حقائق سے پردہ اٹھائے گی۔ کیسی عجیب بات ہے کہ حکومت خود جلسے کرنے کا پروگرام ظاہر کر رہی ہے۔ اسے تو اپنے معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے نزدیک لوگ اس کی باتوں میں آجائیں گے اور حالات کی سنگینی کو بھلا دیں گے ایسا نہیں ہونے والا کیونکہ اب وہ گہری نیند کے مزے لوٹ رہے ہیں لہٰذا حزب اختلاف کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اب عوام کو ان کی بھی حکمت عملی سے آگاہی ہے کہ وہ اقتدار کے حصول کے لیے ہی تڑپ رہی ہے۔ ان کے لیے اس کے دل میں کوئی درد نہیں۔

یہ سب بہروپیے ہیں بہروپیے! 

عیاری و مکاری ان سب میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے دھوکا دیتے ہیں یہ بازی گر کھلا پہلے یہ بتائیں کہ وہ کھربوں کے مالک کیسے بنے، 

ان کی جائیدادیں باہر کے ملکوں میں کیوں ہیں اس پیسے کو وطن عزیز میں کیوں نہیں رکھا گیا۔ اگر یہ سیاستدان ہوتے اور عوام کے خیر خواہ ہوتے تو آج یہاں خوشحالی ہوتی آئی ایم ایف کے قرضوں سے نجات پا لی ہوتی ، بھوک ، ننگ اور بیماری ہمارا مقدر نہ ہوتی ہر کسی کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں میسر ہوتیں مگر ان ٹھگوں نے ملک کا پیسا لوٹ کر عالی شان محل تعمیر کر لیے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ان کا پیٹ بھرتا ہی نہیں صرف یہی نہیں ہر با اختیار کا وتیرہ ہے کہ قومی خزانہ دونوں ہاتھوں سے سمیٹو اور غائب ہو جاؤ۔ ان سے پوچھو تو گریبان کو آتے ہیں۔ ان کا تو عدالتیں اور احتساب کرنے والے ادارے کچھ نہیں کر سکتے کہ یہ کوئی ’’کھوج کھرا‘‘ نہیں پیچھے چھوڑتے لہٰذا ایک اندھیر مچا ہوا ہے اب ایسے میں وہی پرانے چہرے ایک نیا سبز باغ دکھانے چل پڑے ہیں مگر ہمیں پوری امید ہے کہ لوگ خواب خرگوش کے مزے لیتے رہیں گے۔ جلسوں اور جلوسوں کی رونق وہی بنیں گے جنہوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہوں گے لہٰذا دوسرے خاموشی اختیار کر کے ایک طرف بیٹھنے کو ترجیح دیں گے جبکہ یہ صورت حال خود عوام کے لیے بھی کسی طور ٹھیک نہیں کیونکہ ان پر یہ بہروپیے باری باری مسلط ہوتے جائیں گے اور ان کے حصے کا خزانہ اپنی تجوریوں میں منتقل کرتے رہیں گے نتیجتاً مہنگائی کا اژدھا انہیں ڈستا رہے گا لہٰذا انہیں جاگنا ہو گا وگرنہ وہ جدید دور کی غلامی کی زنجیروں کو نہیں توڑ پائیں گے اور اسی طرح ذلیل و رسوا ہوتے رہیں گے کہ آج وہ ایک بدترین دور سے گزر رہے ہیں اور ان کی حالت زار پر کوئی ایک بھی با اختیار ترس کھانے کو تیار نہیں۔ 

شرم تم کو مگر نہیں آتی اس قدر بے حسی و ستم گری کہ جو ہاتھ تمہارے لیے ذرائع پیداوار کو حرکت میں رکھتے ہیں اور ان سے تم ڈھیروں دولت جمع کرتے ہو انہیں معذور و بے بس کرنے پر تلے ہوئے ہو۔ بس کرو اب، اندھیرا ہمیشہ نہیں رہتا روشنی آ کر رہتی ہے۔ 

بہاروں کو خزاؤں میں بدلنے والو! تم پھولوں کو مہکنے اور ان پر منڈلاتی تتلیوں کو نہیں روک سکتے اسی طرح سورج کو ابھرنے سے بھی روکنا تمہارے بس میں نہیں تسلیم کہ آج لوگ سو رہے ہیں کہ وہ ہار گئے ہیں تمہاری پالیسیوں اور منصوبوں نے ان کے اعصاب شل کر دیئے ہیں مگر وہ کب تک اس حالت میں رہیں گے اور پھر ہر جابر اور ظالم پس زنداں ہو گا اور وہ خوشی کے گیت گاتے ہوئے جھوم رہے ہوں گے!