آئی ایم ایف کا جال

آئی ایم ایف کا جال

پاکستان ہر آنے والے دن کے ساتھ بیرونی قرضوں کے مزید بوجھ تلے دبتا چلا جا رہا ہے،ہماری ہر حکومت قرضے لینے میں پہلے ہی بڑی شیر تھی ،لیکن موجودہ  حکومت  نے تو انتہا کر دی ہے ۔ایک طرف آنے سے پہلے یہ دعویٰ تھا کہ ہم آئی ایم ایف کو جھنڈی دکھا دیں گے لیکن بعد ازاں جھنڈی دکھانا تو دور کی بات ان کی ہر بات کو حکم سمجھ کر من و عن تسلیم کیا جارہا ہے،جس سے نہ صرف ملک معاشی عدم استحکام کا شکار  ہو رہا ہے بلکہ عوام مہنگائی کی چکی میں دن بدن  پستے جا رہے ہین ، بحران زیادہ ہو رہے ہیں اور قرضوں کی مقداربڑھتی چلی جا رہی ہے۔ماہرین معاشیا ت اور تجزیہ نگار چیخ رہے ہیں کہ اگر ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنا ہے تو عالمی مالیاتی اداروں سے پیچھا جلد از جلد چھڑایا جائے ،لیکن اہل اقتدار اس سے بے پرواہ ہیں اور اپنی نالائقی چھپانے کے لئے عوام کو مزید بھنور میں پھنساتے جا رہے ہیں۔

آئی ایم ایف پاکستان کی معیشت میں تو غر بت ختم کر نے اور معاشی استحکا  م پیدا کر نے لیے داخل ہو ئی تھی مگر اس کے عوام کے لئے اس کی مدد ہمیشہ بھیانک نتا ئج لے کر آئی ہے ۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کی رکنیت تو 1950 ء میں ہی حاصل کر لی تھی اورعشروں سے اس کے ثمرات سے فائدہ بھی اٹھایا جا رہا ہے۔لیکن عارضی مالی فوائد نے قرض لینے والوں کو تو مزید متمول بنایا ہے جب کہ عام لو گوں کی زندگیاں بری طرح متاثر کی ہیں۔ اب تو حالات یہ ہیں کہ حکمران آئی ایم ایف ،عالمی بنک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے حاصل کرنے کوہی اپنے ایجنڈے میں سر فہرست رکھتے ہیں،اور اس پریکٹس کے خوفناک اثرات سے آنکھیں موند رکھی ہیں۔ اور اس مقصد کے حصول کے لئے وزیر خزانہ سمیت بہت سے اہم عہدوں پر تقرری کے لئے آئی ایم ایف سے مشاورت کی جاتی ہے اور یہ بھی کوشش کی جاتی ہے کہ ایسے فرد کو تقرر کیا جا ئے جو پہلے ہی ان کا ملازم رہ چکا ہو۔ایسی مثالوں سے ہمری تاریخ بھری پڑی ہے۔ اور بہت سی تقرریوں کے بارے میں تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ بندہ انہوں نے بھیجا ہے۔

گزشتہ چار عشروںسے پاکستانی حکمر انو ں کی ہمیشہ یہ خو اہش رہی ہے کہ بیرونی قرضے معاف ہو جا ئیں لیکن ان میں اضا فہ ہی ہو تا گیا۔قرض لیتے وقت اور پالیسیاں مرتب کرتے یہ کبھی کسی نے نہیں سوچا کہ معاشی استحکام کے لئے ان قرضوں کو اتارناناگزیر ہے۔ہمارے حکمرانوں اور بڑے بڑے سیاستدانوں میں تو کوئی اتاترک،ماوزے تنگ،چرچل،روزویلٹ،نیلسن منڈیلا،خمینی یا ڈاکٹر مہاتیر محمد نظر نہیں آتا ،پھر ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ قرضوں کے چنگل سے جان چھڑانے کے لئے ہمارے ملک سے تیل اور دیگر اہم معدنیات دریافت کرا دے۔لیکن اگر عوام کی یہ دعا قبول ہو بھی گئی تو یقین کریں کہ ہمارے سیاستدان اس پر بھی ملکی مفادات کو قربان کردیں گے، آپس میں ہی دست و گریبان ہونا شروع کر دیں گے،اور کالا باغ ڈیم کی طرح اپنے وسائل سے استفادہ  کرنے کے بجائے اپنے نفاق کی وجہ سے بیرونی قوتو ں کو مداخلت کا موقع فراہم کر دیں گے۔

اگر یہ مان لیا جائے کہ مسائل کا حل جمہو ریت میں ہی ہے،تو ابھی ہماری جمہوریت اس سطح پر نہیں پہنچ پائی جہاں بحران حل کرنے والے لیڈرمل سکیں۔ویسے بھی اس وقت جمہوریت کا ڈھندورہ پیٹنے والے ہی سب سے زیادہ جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ملک کی بڑی بڑی پارٹیوں میں کہیں جمہوریت نظر نہیں آتی اور سارا سیاسی نظام وراثتی نظام بن چکا ہے۔ عوام کو طاقت کا سر چشمہ اور ملک کا اصل اثاثہ قرار دینے والے ہی اپنی ناقص منصوبہ بندیوں اور پالیسیوں سے عوا م کا مستقبل تاریک تر اور اپنا مستقبل روشن کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت سمیت جو بھی اقتدار میں آیا اس نے ملک و قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔ہمارے سیاستدان جب ووٹ لینے آتے ہیں تو عوام کے مسائل حل کرنے اور ان کی خدمت کرنے کے دعوے کرتے ہیں ،لیکن اقتدار میں آ کر وہ سب سے زیادہ خدمت امریکا،عالمی بنک اور آئی ایم ایف کی کرتے ہیں۔چنانچہ جب آئی ایم ایف قرض کے بدلے اپنی عوام کش شرائط عائد کرنے کے احکامات دیتی ہے تو حکمران ان کو نافذ کرنے میں معمولی سی ہچکچاہٹ بھی محسوس نہیں کرتے ،کیونکہ ا ایسی کڑی شرائط ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں،اور صرف عوام کو ہی ہر لحاظ سے تباہ کرتی ہیں ۔حکمرانوں کی اس فرمانبرداری کے آج نتائج یہ ہیں کہ ۔بجلی،گیس اور پٹرول وغیرہ کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں اور دیگر سبسیڈیز ختم کر کے بیچاری عوام کو ہی معاشی کرنٹ لگائے جا رہے ہیں۔عوام کے ہمدرد حکمران اور سیاستدان جانتے ہیں کہ عوام ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور ملک میں انقلاب آ بھی گیا تو وہ سکون کے ساتھ باہر چلے جائیں گے اور عیش وآرام کی زندگی بسر کریں گے اسکی ایک مثال تو ہمارے سامنے نواز شریف کی صورت میں موجود ہے جو لندن میں قیام پذیر ہیں  لیکن بات صرف نواز شریف تک محدود نہیں ہے ماضی میں اس کے علاوہ بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور مستقبل میں بھی ایسی مثالیں ملتی رہیں گی۔جس ملک کے قرضوں کا حجم بڑھتا ہی جا رہا ہو وہاں معاشی استحکام پیدا کرنے کے نعرے لگانے والے لیڈر جھوٹ بولتے ہیں۔جب تک ان عالمی مالیاتی اداروں سے ہم جان نہیں چھڑائیں گے اور ایک ایماندار قیادت ہمیں میسر نہیں آ جاتی معاشی استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔اس کے لئے با شعور عوام کو ان چلے ہوئے کارتوسوں کو مسترد کر کے مخلص  اور اہل قیادت کو اقتدار میں لانا ہو گا موجودہ حکومت اور اپوزیشن کے بس کا تو یہ کام نہیں ہے۔