محمد رضوان سیمی فائنل کھیلنے کیلئے بے تاب تھے، اس قدر تیزی سے صحت یابی پر بہت حیران ہوں: ڈاکٹر سہیر

محمد رضوان سیمی فائنل کھیلنے کیلئے بے تاب تھے، اس قدر تیزی سے صحت یابی پر بہت حیران ہوں: ڈاکٹر سہیر
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

ابوظہبی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی 20 ورلڈکپ کے سیمی فائنل سے پہلے ہسپتال میں محمد رضوان کا علاج کرنے والے بھارتی ڈاکٹر بھی ان کی اس قدر تیزی کیساتھ صحت یابی پر بہت حیران ہیں جن کا کہنا ہے کہ وکٹ کیپر بلے باز میں اپنی قوم کیلئے سیمی فائنل کھیلنے کا بے پناہ جذبہ تھا، وہ آئی سی یو میں بار بار کہتے تھے مجھے کھیلنا ہے،ٹیم کے ساتھ رہنا ہے۔

محمد رضوان نے ٹی 20 ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف عمدہ بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 52 گیندوں پر 67 رنز بنائے تاہم ان کی اننگز رائیگاں گئیں اور بدقسمتی سے پاکستان یہ میچ جیتنے میں کامیاب نہ ہوا اور ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔ سیمی فائنل سے قبل وہ چھاتی میں انفیکشن کے باعث ہسپتال میں داخل رہے جہاں انہوں نے 35 گھنٹے انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں گزارے۔ 

محمد ہسپتال کا علاج کرنے والے بھارتی ڈاکٹر سہیر نے انٹرنیشنل میڈیا کو انٹریو دیتے ہوئے کہا کہ محمد رضوان آئی سی یو میں مضبوط، پرعزم اور پراعتماد تھے اور جس تیزی سے وہ صحت یاب ہوئے میرے لئے بہت زیادہ حیران کن تھا۔ جب محمد رضوان ہسپتال آئے تو ان کا درد انتہا پر تھا اس لئے ان کو ہسپتال میں رکھنے کا فیصلہ کیا اور وہ 35 گھنٹے آئی سی یو میں رہے۔ 

ڈاکٹر سہیر کا کہنا ہے کہ ایسوفیگل سپیزم کے باعث سینے میں اچانک شدید درد محسوس ہوتا ہے جبکہ یہ درد چند منٹ سے گھنٹوں تک رہتا ہے جبکہ اس د رد میں مبتلا افراد کو صحت یابی کیلئے ہفتوں لگ جاتے ہیں، اس لئے محمد رضوان کا سیمی فائنل سے قبل صحت یاب ہونا یقینی نہیں لگ رہا تھا لیکن ان کی بہترین فٹنس ان کی جلد صحت یابی کا سبب بنی۔

ڈاکٹر سہیر نے کہا کہ محمد رضوان کے ذہن میں سیمی فائنل کے علاوہ اور کچھ نہ تھا، میں نے کئی کھلاڑیوں کی انجری کا معائنہ کیا، رضوان سب سے جلد صحت یاب ہوئے جبکہ انہوں نے مجھے اپنی دستخط شدہ شرٹ بھی تحفے کے طور پر پیش کی۔