احمدیوں کو مسلمانوں کے شعائر استعمال کرنے کی اجازت نہیں، رانا ثناااللہ

احمدیوں کو مسلمانوں کے شعائر استعمال کرنے کی اجازت نہیں، رانا ثناااللہ

لاہور: صوبائی وزیر قانون رانا ثناااللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا گزشتہ روز بعض سیاسی مخالفین اور دیگر نے میرے بیان کو غلط طور پر پیش کیا۔ راسخ العقیدہ مسلمان ہونے کے ناطے ختم نبوت پر ایمان ہے اور ختم نبوت ہمارے ایمان کا بنیادی جزو ہے جبکہ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے۔


ان کا مزید کہنا تھا آئین میں ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں اور اسی آئین میں تمام اقلیتوں کے حقوق بھی واضح طور پر درج ہیں اور ریاست نے ہمیشہ احمدیوں کو آئین کے مطابق جان و مال کا تحفظ فراہم کیا لیکن احمدی خود کو غیر مسلم ظاہر نہیں کرتے بلکہ مسلمان بن کر تبلیغ کرتے ہیں۔ احمدیوں کو مسلمانوں کے شعائر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

کیپٹن(ر) صفدر کے بیان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ان کے بیان کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا اور اس جواب کے بعد کوئی بات کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔

انہوں نے بتایا ان شاءاللہ پیر سے پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے جا رہا ہے اور اسمبلی کا اجلاس کم از کم دو ہفتے تک جاری رہے گا۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں امن و امان سمیت مختلف امور پر بحث ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ عدالت میں گنجائش کم ہو تو سماعت کسی بڑی جگہ پر منتقل کی جا سکتی ہے۔ ایک وکیل اوپن کورٹ میں جانے کا استحقاق رکھتا ہے اور اسلام آباد میں وکلا کو عدالت جانے سے روکا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ بار 21 ہزار وکلا کی بار ہے چند لوگوں کو کسی کی ممبرشپ ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر کا منصورہ سے بہت تعلق ہے جبکہ سیکریٹری ہائیکورٹ بار کا ظہور الہیٰ روڈ سے گہرا تعلق ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں