کراچی پولیس نے خواتین کو زخمی کرنے والے چھلاوے کا سراغ لگا لیا

کراچی پولیس نے خواتین کو زخمی کرنے والے چھلاوے کا سراغ لگا لیا

کراچی: پولیس نے خواتین کو زخمی کرنے والے چھرا مار کا سراغ بالآخرڈھونڈ نکالا۔خواتین کو چھرے سے زخمی کرنے والے نامعلوم ملزم کو پکڑنے میں ناکامی پر تفتیش اور تحقیقات کیلئے دنیا بھرکی ٹیکنالوجی ایک طرف کرکے روایتی انداز اپنا لیا گیا۔پولیس نے کراچی میں وارداتوں کا تعلق ساہیوال کے چھرامار وسیم سے جوڑ دیا۔


ساہیوال میں خواتین کو بلیڈ کے وار سے زخمی کرنے والے وسیم کی تلاش میں ناکامی کے بعد پولیس نے وسیم کے ایک ساتھی کو ڈھونڈ نکالاہے۔شہزاد نامی اس ساتھی نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرایا ہے جس کے مطابق وسیم خواتین کو زخمی کرنے کی وارداتوں کے دوران کراچی میں تھا اور وسیم چھری مارنے کی واردات ٹی وی پر دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔پولیس نے ملزم کے ساتھی کے بیان کی روشنی میں وسیم کی گرفتاری کے لیے کوشش شروع کردی ہیں۔

شہزاد کو سات روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔کیس کے انویسٹی گیشن آفیسر حمید گبول نے بتایا کہ کراچی میں خواتین پر حملے کرنے والا بھی ممکنہ طور پر وہی شخص ہے جو ساہیوال میں خواتین کو نشانہ بناتا رہا۔ ملزم کے موبائل کی لوکیشن ٹریس کی گئی ہے اور وہ کراچی میں ہی تھا۔واضح رہے کہ دوسال قبل ساہیوال میں 45 خواتین کو بلیڈ سے زخمی کرنے والے ملزم کی شدید دہشت تھی۔ بالاآخرقانون کی گرفت میں آیا ،آٹھ ماہ کی سزا ہوئی مگر رہائی کے بعد ملزم غائب ہوگیا۔

2013سے2015کے درمیان45 خواتین کو زخمی کرنے والا جیل سے نکلتے ہی غائب ہوگیا۔ کراچی پولیس نے ساہیوال کے ڈی آئی جی سے چھلاوے کے لیے رابطہ کیا لیکن کوئی اہم سراغ نہ مل سکا۔ وسیم نے ساہیوال اور اطراف میں دہشت پھیلارکھی تھی۔ چپکے سے گھات لگا کر حملہ کرتا اور خواتین کو زخمی کردیتا۔پکڑے جانے کے بعد مجرم کو8 ماہ قید ہوئی۔ ضمانت پر رہائی ملتے ہی تین گھر تواتر سے بدلے اور پھر اسکا کہیں سراغ نہ ملا۔