افغانستان سے

افغانستان سے

امریکہ افغانستان سے نکل گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی کئی سوالات بھی کھڑے ہو گئے ہیں ۔ ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اور یورپ افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار کریں گے اور کابل تنہائی سے نکل کر بین الاقوامی برادری کا حصہ بنے گا یا امریکہ پہلے کی طرح افغانستان سے منہ موڑ کر پرانی غلطی کو دہرائے گا۔اس بار بین الاقوامی برادری کو کابل کی طرف خاص طور پر توجہ دینا ہو گی ورنہ اسکے خوفناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اس بار طالبان بھی نئے موڈ کے ساتھ سامنے آئے ہیں اور امید کرنی چاہیے کہ وہ افغانستان کی امارات اسلامی کو دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی طرف بھی توجہ دیں گے۔ دنیا سے کٹ کر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا اور افغانستان گذشتہ کئی دہائیوں سے جنگ زدہ ملک ہے اس کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے  لیے ہر ملک کو اپنا اپناکردار ادا کرنا ہوگا۔ بین الاقوامی برادری کابل کی طرف اس وقت زیادہ متوجہ ہو گی جب طالبان یہ یقین دہانی کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ ان کا تعلق داعش اور القاعدہ سے ختم ہو چکا ہے۔ اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ طالبان کے ساتھ مسلح لوگ ہیں جو ایک عرصہ سے میدان جنگ میں لڑتے رہے ہیں ان کی توانائیوںکو چینلائز کرنا بھی ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں اس قابل بنانے کے لیے کہ حکومت کے تقاضے کچھ اور ہیں تربیت کی بھی ضرورت ہے۔ سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے جنگجو جب افغانستان سے اپنے اپنے ملکو ںمیں گئے تھے تو ان کی نفسیاتی تربیت کا خاص طور پر  اہتمام کیا گیا تھا۔میدان جنگ کی زندگی اور شہر کی زندگی میں زمین آسمان کا فر ق ہے۔ 

رحمن ملک پاکستان کے وزیرداخلہ رہے ہیں اور سیکیورٹی کے حوالے سے ماہرجانے جاتے ہیں۔ سیاست میں آنے سے قبل وہ ایک طویل عرصہ ایف آئی اے میں گزار چکے ہیں اور طالبان کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ وہ اس وقت ملک سے باہر ہیں۔ بھلاہو واٹس اپ کا یہ دنیا میں ایک کونے سے دوسرے کونے میں رابطے کا ایک بڑا ذریعہ ہے میں نے ان سے واٹس ا یپ پر افغانستان کے حوالے سے ان سے بات کی ۔ طالبان کی عبوری حکومت کے خدوخال کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ افغانستان میں ایک بار پھر ملا عمر برسراقتدار آ گئے ہیں۔ افغانستان کی عبوری کابینہ میں 14افراد ایسے ہیں جنہیں دہشت گرد قرار یا جا چکا ہے اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی فہرستوں میں یہ لوگ مطلوب ہیں۔ اس کابینہ کے بہت سے لوگوں کے سروں کی قیمت مقرر کی گئی ہے، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے خطیر رقم کااعلان کر رکھا ہے ۔ افغانستان کے وزیرداخلہ انتہائی مطلوب ا فراد کی فہرست میں موجود ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنا انگریزی زبان میں شائع ہونے والا ایک آرٹیکل بھی بھیجا ۔ اس آرٹیکل کو پڑھا جائے تو بہت سے نئے پہلو بھی سامنے آتے ہیں مثلا وہ لکھتے ہیں کہ’’ ـاس عبوری کابینہ میں سب سے اہم عہدہ وزیراعظم کا ہے اور اس کے لیے ملا حسن اخوند کا نام سامنے آیا ہے وہ ملا عمر کے ڈپٹی وزیراعظم کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ طالبان کی نئی عبوری کابینہ کم و بیش ملا عمر کی کابینہ ہی ہے اور یوں لگ رہا ہے کہ ملا عمر دوبارہ سے اقتدارمیں آ گئے ہیں، ملا حسن اور ان کے نائب ملا غنی برادر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دہشت گردوں کی فہرست میں بلیک لسٹ میں سر فہرست ہیں ۔33رکنی عبوری کابینہ میں ایک گروپ طالبان فائیو ہے ، ان پانچ  میں سے چار افراد گوانتانامو میں قید رہے ہیں۔ ان میں ملا محمد فاضل ڈپٹی وزیر دفاع، خیراللہ خیر خواہ وزیر اطلاعات و ثقافت، ملا نور اللہ نوری سرحد و قبائلی امور، ملا عبدالحق واثق ڈائریکٹر انٹیلی جنس شامل ہیں۔اس گروپ کے پانچویں رکن محمد نبی عمیری کو مشرقی صوبے خوست کا گورنر لگایا گیا ہے۔عبوری وزیردفاع ملا یعقوب ، وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی اور ان کے نائب شیر محمد عباس ان افراد میں شامل ہیں جن پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پابندی لگا رکھی ہے۔33رکنی کابینہ میں سے 14افراد کے سروں کی قیمت 5 ملین ڈالر سے 50ملین ڈالر لگائی جا چکی ہے اور دہشت گردی کے نبردآزما ہونے کیلئے سلامتی کونسل کے یہ نوٹیفیکشن اب تک موثر ہیں۔‘‘

رحمن ملک کے مطابق طالبان نے بین الاقوامی برادری سے دو وعدے کیے تھے اور دونوں پر ابھی تک عملدرآمد نہیں کر سکے ۔ انہو ںنے خود بھی یہ کہا تھا کہ عبوری حکومت میں سب قومیتوں کو نمائندگی دی جائے گی مگر اس کابینہ میں ہزارہ موجود نہیں ہے اور عملی طور پر ساری کی ساری کابینہ قندھاری طالبان پر مشتمل ہے  اور وہی افغانستان کی قسمت کافیصلہ کریںگے اس کے علاوہ انہو ںنے یہ بھی وعدہ کیا تھاکہ کابینہ میں خواتین کو بھی نمائندگی دی جائے گی اس پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی کے حوالے سے ان کے انکشافات چونکا دینے والے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ دونو ں افرادافغانستان میں اس لیے موجود رہے کہ انہیں نئی عبوری حکومت میں اہم عہدے دیے جائیں گے مگرکابل میں حکومت سنبھالنے کے بعد ان کو بھلا دیا گیا ہے اور ان کی اطلاعات یہ ہیں کہ ان دونوں شخصیات کو طالبان نے نظر بند کر دیا ہے اور ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، اقوام متحدہ کو خاص طور پر اس مسئلہ کی سنگینی کو سمجھنا ہو گا کیونکہ ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

رحمن ملک نے کابینہ میں جن وزراء کی جانب اشارہ کیا اور یہ کہا کہ ان کے نام انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں موجود ہیں ان کی بات کسی حد تک درست ہے مگر یہ بھی درست ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کے لیے ان طالبان کے ساتھ ہی مذاکرات کیے ہیں اور اس معاہدے پر ملا عبدالغنی برادر کے دستحظ ہیں جو ملا عمر کے نائب تھے۔ افغانستان کے حوالے سے امریکہ اور یورپ کی بے رخی نئے المیہ کو جنم دے سکتی ہے۔ طالبان ایک بار سے زیادہ اس بات کی یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔ 

صرف الفاظ ادا کرنے سے یہ سب کچھ نہیں ہو گا کیونکہ افغانستان میں اب بھی بہت سے لوگ اور وار لارڈز ایسے ہیں جو اس سارے کھیل میں شریک رہے ہیں اور وہ آنیو الے وقت میں کسی کے لیے بھی تربیت گاہیں فراہم کر سکتے ہیں۔ ماضی میں ساری دنیا میں ہونے والی دہشت گردی کے سوتے افغانستان سے پھوٹتے رہے ہیں۔ان حالات میں ڈس انگیج منٹ کی بجائے ان کے ساتھ انگیج ہونے کی ضرورت ہے اور افغانستان کی سلامتی اور سیکیورٹی کے لیے طالبان کو جن آلات اور تربیت کی ضرورت ہے وہ انہیں فراہم کرنا ضروری ہے۔ پاکستان کے لیے یہ خطرے کی گھنٹی ہے کہ کابل میں اب بھی پاکستان کے حوالے سے نفرت کو بڑھانے والے عناصر موجود ہیں اور گذشتہ دنو ں جب کابل میں طالبان کی حکومت موجود تھی ان حالات میں بھی ایک چھوٹے سے گروپ نے پاکستان کے خلاف ریلی کا انعقاد کیا اور پاکستان کے سفارتخانے کے  باہر مظاہرہ کیا ۔ طالبان نے ہوائی فائرنگ کی اور سفارتخانے  کے باہر جمع ہونے والے افراد کو منتشر کیالیکن اس واقعہ نے اس شک کو پختہ کر دیا کہ دہشت گرد گروپوں کے سلیپر سیل اب بھی افغانستان میںموجود ہیں۔ ساری دنیا جب افغانستا ن کا تماشا دیکھ رہی تھی ان حالات میں پاکستان کی آئی ایس آئی کے سربراہ کابل پہنچ گئے اور انہوں نے طالبان کے رہنمائوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ کابل کی اس صورتحال میں جب سارے سفارتخانے بند ہو گئے تھے اور سارے ممالک نے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا صرف پاکستان اور چین کا سفارتخانہ معمول سے زیادہ کام کرتا رہا اور کابل میں پھنسے ہوئے لوگوں کو باہر نکالنے میں مدد دی۔ پی آئی اے نے بھی کابل سے لوگوں کو لانے کے لیے اپنا بھرپور کردار اداکیا ۔ یہ وہی پی آئی اے ہے جس پر یورپ سمیت کئی ممالک نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔

رحمن ملک کی اس بات میں دم ہے کہ پاکستان کو افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایک بلاک کی صورت میں افغانستان کی حکومت کو تسلیم کیا جائے ۔’’پاکستان چند شرائط کے ساتھ پانچ طاقتور ملکوں کا بلاک بنا کر طالبان حکومت کو تسلیم کرنے پر غور کرے۔ پاکستان کی حکومت میں چند جذباتی لوگ جس طرح کے دعوے کر رہے ہیں ان کو اس سے روکا جائے کیونکہ اس کا ملک کو نقصان ہو گا۔ دنیا اس وقت چین کے اس اقدا م کو سراہ رہی ہے کہ اس نے خوراک اور ادویات کی مدد میں افغانستان کو 31ملین ڈالر کی امداد دی ہے ۔ پاکستان نے بھی پی آئی اے کے ذریعے افغانستان میں ادویات روانہ کی ہیں اور ہمیں یہ امید بھی رکھنی چاہیے کہ دنیا کے دوسرے ممالک بھی افغانستان کے لوگوں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں گے۔‘‘

ہمارے قومی سلامتی کے ادارے افغانستان پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور امید رکھنی چاہیے کہ افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ مل کر ان عناصر کا قلع قمع کیا جائے گاجو افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیںاور اس میں بھارت سرفہرست ہے۔پاکستان میں دہشت گردی میںملوث جو گروپ افغانستان میں  پناہ لیے ہوئے ہیں ان کو ختم کرنا بھی ضروری ہے ، یہ گروپ اب افغانستان سے نکل کر بھارت جانے کی کوشش کریں گے۔ بھارتی میڈیا چینل طالبان کے آنے کے بعد چیخ و پکار کر رہا ہے ۔ بھارت کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اس نے دو دہائیوں تک افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے جو مذموم منصوبہ بنایا تھا وہ اپنی موت آپ مر گیاہے۔ آئی ایس آئی کے سربراہ کی کابل میں چائے پیتے ہوئے تصویرسے بھارت تلملا گیا ہے اور اب وہ افغانستان میں ان عناصر کو ہمارے خلاف استعمال کرے گا جس پر اس نے بیس سال تک پیسہ لگایا ہے۔ ان حالات میں افغانستان کی طرف صرف دیکھنے کی نہیں بلکہ گہری نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔