پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل کی مخالفت، صحافیوں کا اسلام آباد میں احتجاج  

Pakistan Media Development Authority Bill, journalists protest in Islamabad
کیپشن: فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل کی مخالفت میں صحافیوں کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین بل کو فوری طور پر واپس لئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بھی صحافیوں کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان، میاں رضا ربانی اور مریم اورنگزیب نے بھی بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کالا قانون کسی صورت منظور نہیں ہونے دیں گے۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب نے پی ایم ڈی اے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہے، فسطائیت پر مبنی کالا قانون کسی صورت منظور نہیں ہونے دیں گے۔

رہنما پیپلز پارٹی شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ عمران خان حکومت میڈیا سےآمرانہ رویہ اختیار کر رہی ہے۔ حکومت کے کالے قانون کا بل مسترد کرتے ہیں، یہ میڈیا دشمنی کے مترادف ہے۔ حکومت جان بوجھ کر میڈیا پر قدغن لگانے کیلئے یہ قانون لا رہی ہے۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ میڈیا کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ان کے احتجاج میں برابر کے شریک ہیں۔ یہ آمرانہ قانون ہے، اس کے ذریعے معاشرے کو جکڑ دیا جائے گا۔ قانون کے بعد حکومت ماں نہیں عفریت بن کر صحافیوں کے سر پر بیٹھی رہے گی۔ پچھلے تمام کالے قانون دوبارہ لائے جا رہے ہیں، یہ بڑی سنسرشپ ہے۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے آج ایسے محسوس ہوتا ہے ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف دور کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت کا دور آمروں کے دور سے زیادہ خراب ہے۔ محنت کشوں، مزدوروں اور صحافیوں پر جتنا ظلم ہوا ان کی جدوجہد اتنی تیز ہوئی۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ حکومت کالا قانون صحافیوں کی زبان بند کرنے کیلئے لا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اس کالے قانون کو قانونی شکل نہیں دینے دے گی۔ ضیاء الحق کے مارشل لا کے آرڈر اس سے بہتر تھے۔ اس کالے قانون کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ حکومت نے 20 ہزار خاندانوں کو یک جنبش قلم نوکریوں سے نکال دیا۔ حکومت اپنے اے ٹی ایمز، سرمایہ داروں، غیر ملکی کمپنیز کو فائدہ دینے کو تیار ہے۔ حکومت مڈل کلاس طبقے، مزدور اور محنت کشوں کا روزگار چھین رہی ہے۔