آصفہ قتل واقعے کیخلاف احتجاج کرنے والی بھارتی طالبہ کو سرکاری کالج سے معطل کر دیا

آصفہ قتل واقعے کیخلاف احتجاج کرنے والی بھارتی طالبہ کو سرکاری کالج سے معطل کر دیا

فوٹو بشکریہ بی بی سی

نئی دہلی : مقبوضہ کشمیر میں ننھی آصفہ کے بہیمانہ قتل اور زیادتی پر پورے بھارت میں شدید احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ایک طرف مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی آصفہ کے ملزمان کو سخت سزا دلانے کی یقین دہانی کرا رہی ہے تو دوسری جانب بھارتی ریاست تامل ناڈو میں آصفہ قتل واقعے کے خلاف اور انصاف کے مطالبہ کرنے والی فرسٹ ائیر کی طالبہ کو سرکاری کالج سے معطل کردیا۔طالبہ پریا کے خلاف نسلی فسادات کو بڑھکانے کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:مودی نے ننھی آصفہ کے قتل کو زیادتی کی بدترین مثال قرار دیدیا

  

واضح رہے کہ رواں برس 17 جنوری کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے کٹھوا میں ایک 8 سالہ بچی آصفہ کو اجتماعی زیادتی کے بعد بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا گیا تھا۔ گذشتہ دنوں بھارتی عدالت میں پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ بکروال کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی مذکورہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔

بی جے پی کے اراکین نے آصفہ کے مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کرنے کی بجائے مجرموں کا ساتھ دیا اور اس واقعے کومسلم کمیونٹی کی جانب سے سازش اور سوچا سمجھا منصوبہ قرار دیا تھا۔ مذکورہ گرفتار افراد کی حمایت میں بی جے پی کے دو ارکان وزیر مملکت برائے جنگلات لال سنگھ اور وزیر کامرس اینڈ انڈسٹریز چندرپرکاش نے ایک ریلی بھی نکالی لیکن بعدازاں انہیں استعفیٰ دینا پڑ گیا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں