حکمران کراچی کے عوام کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کر رہے ہیں: سراج الحق

فوٹو بشکریہ فیس بک

کراچی: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کراچی ملک کی معاشی و اقتصادی شہ رگ ہے، لیکن حکمران کراچی کے ساتھ مفتوحہ علاقے اور عوام کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔

ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ عوام کو بجلی اور پینے کا پانی تک میسر نہیں اور حکمران عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں، کے الیکٹرک کے ظلم اور لوٹ مار کے خلاف اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے 20 اپریل کو وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کیا جائے گا اور 27 اپریل کو کراچی میں ہڑتال کی جائے گی، وہ سب لوگ جو شہر کو مسائل کے دلدل سے نکالنا اور کراچی کو خوشحال اور روشن دیکھنا چاہتے ہیں وہ اس احتجاج اور ہڑتال میں شریک ہو کر کراچی کو خوشحال اور روشن بنانے کی جدوجہد کو کامیاب بنائیں۔ نااہل قیادت اور حکومت کی وجہ سے کراچی مسائل کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ ہے اور مسائل کے حل کی جدوجہد اور عوام کی ترجمانی کرتی رہے گی۔

سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ گیس کی کمی، فرنس آئل اور پاور پلانٹس کو بند رکھنا عوام کا مسئلہ نہیں، عوام بجلی کے بلز اور ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ بلا تعطل بجلی کی فراہمی اور مسائل سے نجات عوام کا حق اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام ان دنوں اذیت ناک لوڈ شیڈنگ کا شکا رہیں اور کے الیکٹرک کی نااہلی اور ناقص کارکردگی اور اربوں روپے کی لوٹ مار نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی، کے الیکٹرک کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے اور نیپرا بھی عوام کو ریلیف دلانے کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔ ہم عدالت عظمیٰ سے امید کرتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ وہ کے الیکٹرک کے حوالے سے کراچی میں حالیہ سنگین صورتحال کا نوٹس لیں گے اور ہماری درخواست کو بھی سنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر یونیورسٹی ترمیمی بل منظور کرایا ہے اور سندھ کی تمام جامعات کو 1973 کے آئین کے تحت حاصل خود مختاری کو ختم کر دیا ہے اور چانسلر کے اختیارات گورنر سے لے کر وزیر اعلیٰ کے حوالے کر دیئے گئے ہیں۔ حکومت کے اس فیصلے سے جامعات کی حالت سندھ کے سرکاری اسکولوں جیسی ہو جائے گی اور اعلیٰ تعلیم کا سارا نظام بھی تباہ وبرباد ہوجائے گا۔ ہمارا بھی مطالبہ ہے کہ سندھ حکومت جامعات ترمیمی بل کو فوری واپس لے۔

سراج الحق نے کہا کہ کراچی کے دو کروڑ سے زائد شہریوں کو پینے کے پانی کے حوالے سے بھی شدید مشکلات اور پریشانیاں لاحق ہیں۔ مجھے بڑا شرم آتی ہے جب کراچی میں پانی کے مسائل پر بات کرتا ہوں انسان چاند پر پہنچ چکا ہے اور مریخ پر جانے کی تیاریاں کر رہا ہے لیکن کراچی کے عوام کو پینے کا پانی میسر نہیں۔

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن، نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، سکرٹری کراچی عبد الوہاب، سکرٹری اطلاعات زاہد عسکری، کے الیکٹرک کمپلنٹ سیل کے چیئرمین عمران شاہد، چودھری مظہر، مرکزی میڈیا کوآرڈینیٹر سرفراز احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔