یہ وطن ہمارا ہے، ہم ہیں پاسباں اس کے!

یہ وطن ہمارا ہے، ہم ہیں پاسباں اس کے!

ہمارا پیارا وطن پاکستان 70 برس کا ہوگیا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں پاکستانی ہوں۔ یہ وطن میری شناخت اور دنیا بھر میں میری پہچان ہے۔ جب کوئی مجھے پاکستانی کہہ کر پکارتا ہے تو مجھے بےحد خوشی ہوتی ہے۔ تقریبا 6 ماہ قبل ہندوستان کے جانے پہچانے لکھاری، سماجی کارکن سدھیندرا کلکرنی سے میری کراچی کے ایک نجی ہوٹل میں ملاقات ہوئی۔ جب انہوں نے مجھے اپنا پاکستانی دوست کہہ کر پکارا تو میرا سینہ فخر سے چوڑا ہوگیا، کلکرنی صاحب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں اور ہمیشہ اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر پاکستانی کی طرح ہر بھارتی بھی امن چاہتا ہے اور دونوں ملکوں کے عوام اچھے تعلقات چاہتے ہیں مگر میں یہ کہنے پر حق بجانب ہوں کہ اس وقت مودی سرکار صرف پاکستان میں ہی سازش نہیں کررہی بلکہ مودی سرکار میں بھارت میں موجود اقلیت بھی غیر محفوظ ہے۔ میں بھارتیہ جنتہ پارٹی کو بھارت کی حکمران جماعت کہنے کے بجائے بھارت کی شرپسند جماعت کہوں گا، کیونکہ بی جے پی کا نشانہ بھارت میں رہنے والی اقلیت ہے۔ بھارت میں رہنے والے مسلمان بھی ان کی شرانگیزی سے محفوظ نہیں۔


جب میں ہندوستان میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم دیکھتا ہوں تو مجھے تشویش تو ہوتی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ مجھے اطمینان بھی ہوتا ہے کہ میں اس ملک کا شہری ہوں جہاں اقلیتوں کو بھی مسلمانوں کی طرح مساوی حقوق حاصل ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے یہ ملک ہندوستان دشمنی میں نہیں بلکہ اس لئے حاصل کیا تھا تاکہ نا صرف مسلمان بلکہ تمام مذاہب کے ماننے والوں اور انکی عبادت گاہوں کو کوئی نقصان نا پہنچا سکے۔ پاکستان میں اقلیتی برادری محفوظ ہے جبکہ بھارت اقلیتوں کے لئے دنیا کا سب سے غیر محفوظ ملک بن چکا ہے۔

پاکستان ہماری شناخت ہے جو ہمارے بزرگوں نے بڑی جدوجہد، اور قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے مگر گذشتہ 70 سالوں میں اس ملک میں جو نسلیں پیدا اور جوان ہوئی ہیں، ان کی سوچ، سمجھ اور خیالات میں بتدریج کئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن میں یقیناً بڑی حد تک پاکستان کے حالات، مختلف ادوار میں پیش آنے والے واقعات، سیاسی، معاشرتی و معاشی مسائل اور بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی اور روز مرّہ مسائل کا بڑی حد تک عمل دخل ہے۔

آج کی نوجوان نسل پاکستان سے محبت تو کرتی ہے کیونکہ وطن سے محبت ہمارے خون میں شامل ہے لیکن محبت کا وہ جنون اور عشق جو دیوانگی کی حد تک ہمیں اپنے بزرگوں میں نظر آتا تھا، وہ اب نظر نہیں آتا۔

ہمیں اس ملک نے بہت کچھ دیا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے پیارے وطن پاکستان کو کیا دے رہے ہیں؟

ہم اپنے شہر، علاقے یا محلے میں صفائی کے ناقص انتظامات پر حکومت اور بلدیاتی اداروں کی نااہلیوں پر تبصرہ تو خوب کرتے ہیں مگر گندگی پھیلانے والے بھی بھی ہم خود ہیں۔ ہم رشوت لینے والے افسروں اور اداروں پر لعن طعن تو کرتے ہیں مگر ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ یہاں تک کے برتھ سرٹیفیکیٹ بنوانے کے لئے بھی رشوت دینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ ہم لاقانونیت کا رونا تو روتے ہیں مگر ہم خود قانون کی پاسداری نہیں کرتے۔ ہم وہ قوم ہیں جو ٹریفک سگنل پر رکنا اپنی توہین سمجھتے ہیں اور سگنل توڑنے پر چالان کروانے کے بجائے رشوت دے کر جان چھڑانے کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر کسی اہم شخصیات سے فون کروا دیتے ہیں۔ ہم بجلی کے بحران کا رونا تو روتے ہیں مگر کنڈا سسٹم پر اپنے گھروں میں اے سی چلانے اور چوری کی بجلی استعمال کرنے پر بلکل بھی نادم نہیں ہوتے۔ ہم بڑھتے ہوئے جرائم پر تشویش کا اظہار تو کرتے ہیں مگر جب کسی بھی واقعے کی ایف آئی آر درج کروانا ہو تو تھانے جانے سے کتراتے ہیں اور طرح طرح کے بہانے ڈھونڈتے ہیں جیسے کہ "قسمت میں یہی لکھا تھا، اب رپورٹ درج کروانے کا کیا فائدہ، جو ہونا تھا ہوگیا وغیرہ وغیرہ۔" بےشک جرائم پر قابو پانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے مگر کسی بھی واقعے کی رپورٹ درج کروانا ہماری قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

ہم حکومتِ وقت کی نااہلیوں کو تمام مسائل کا سبب قرار دے کر اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بحیثیت پاکستانی، ہم سب اپنے قومی اور شہری فرائض سے غفلت کے مرتکب ہوتے چلے آ رہے ہیں اور اب یہ معاملہ سنگینی کی انتہائی حدوں کو چھونے لگا ہے کیونکہ اب ہم نے تمام مسائل کا ذمہ دار بھی سیاستدانوں کو سمجھ لیا ہے اور تمام مسائل کے حل کے لئے امیدیں بھی سیاستدانوں سے باندھ لی ہیں۔ ہم اپنے گھر یا کسی ہوٹل پر بیٹھ کر سیاسی کمنٹری تو خوب کرتے ہیں مگر جب ملک کے لئے آگے آنے کا وقت ہوتا ہے تو یہ کہہ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ سیاست میں ہم عام لوگوں کا کیا کام۔ ویسے عجیب بات ہے عام لوگ سیاست میں قدم بھی نہیں رکھتے اور پھر کہتے ہیں کہ سیاست تو چند خاندانوں کے گرد گھومتی ہے۔

ہم انفرادی حیثیتوں میں صرف اپنے گھر کی چار دیواری کو اپنا سمجھتے ہیں۔ چار دیواری کے اندر صفائی کرتے ہیں اور گھر کا کچرا گلی میں پھینک دیتے ہیں۔ ہم گھر کو تو صاف رکھتے ہیں مگر ملک کو صاف نہیں رکھتے۔ ملک کو اپنی ذمہ داری سمجھنا تو دور، ہم نے شاید اسے اپنا ماننا بھی چھوڑ دیا ہے۔ ہر بات کی ذمہ داری دوسروں پر، اداروں پر، معاشرے پر، میڈیا پر، سیاسی رہنماؤں پر، اور حکومت پر ڈال کر ہم اپنے فرائض سے غافل کیسے ہو سکتے ہیں؟

مسائل کے حل کے لئے ہمیں آگے آنا ہوگا۔ سسٹم کا برا بھلا کہنے کے بجائے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ اس سسٹم میں کیسے مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔

آئیے! اس یومِ آزادی پر اپنے ملک و ملّت کے ساتھ ساتھ خود سے بھی یہ تجدیدِ عہدِ وفا کریں کہ یہ وطن ہمارا ہے، ہم ہیں پاسباں اس کے۔

عمیر سولنگی فری لانس صحافی، بلاگر ہیں،سیاست اور حالاتِ حاضرہ پر لکھتے ہیں

انہیں ٹوئیٹر پر فالو کیا جاسکتا ہے UmairSolangiPK